جس کا صاف یہ مطلب ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھی معاشرت کرو۔
اس موقع پر ہم بعض حدیثیں ذکر کریں جن سے ہر ایک کے حقوق کی معرفت حاصل ہو مگر مرد کو یہ دیکھنا چاہيے کہ اس کے ذمہ عورت کے کیا حقوق ہیں انھيں ادا کرے اور عورت شوہر کے حقوق دیکھے اور پورے کرے، یہ نہ ہو کہ ہر ایک اپنے حقوق کا مطالبہ کرے اور دوسرے کے حقوق سے سروکار نہ رکھے اور یہی فساد کی جڑہے اور یہ بہت ضرور ہے کہ ہر ایک دوسرے کی بیجا باتوں کا تحمل کرے(3) اور اگر کسی موقع پر دوسری طرف سے زیادتی ہو تو آمادہ بفساد(4) نہ ہو کہ ایسی جگہ ضد پیدا ہو جاتی ہے اورسُلجھی ہوئی بات اُلجھ جاتی ہے۔
حدیث ۱: حاکم نے امّ المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :''عورت پر سب آدمیوں سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر اس کی ماں کا۔'' (5)
حدیث ۲تا۵: نسائی ابوہریرہ سے اور امام احمد معاذ سے اور حاکم بریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اگر میں کسی شخص کوکسی مخلوق کے ليے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔'' (6) اسی کے مثل ابو داود اور حاکم کی روایت قیس بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے، اس میں سجدہ کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ اﷲ تعالیٰ نے مردوں کا حق عورتوں کے ذمہ کر دیا ہے۔ (7)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔پ۵،النساء:۳۴. 2۔۔۔۔۔۔ پ۴،النساء:۱۹.
3۔۔۔۔۔۔یعنی ان باتوں کو برداشت کرے۔ 4۔۔۔۔۔۔یعنی لڑائی جھگڑے کے لئے تیار۔
5۔۔۔۔۔۔''المستدرک''،للحاکم،کتاب البروالصلۃ،باب اعظم الناس حقا...إلخ،الحدیث:۷۴۱۸،ج۵،ص۲۴۴.
و''کنزالعمال ''،کتاب النکاح،الحدیث:۴۴۷۶۴،ج۱۶،ص۱۴۱.
6۔۔۔۔۔۔''المستدرک''،للحاکم،کتاب البروالصلۃ،باب حق الزوجۃ،الحدیث:۷۴۰۶،ج۵،ص۲۴۰.
7 ۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب النکاح،باب فی حق الزوج علی المرأۃ،الحدیث:۲۱۴۰،ج۲،ص۳۳۵.