شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری مدظلہ العالی اپنے رسالے تذکرہ صدرالشریعہ''کے صفحہ۴۴ پر لکھتے ہیں :'' صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کاپاک وہندکے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے ضخیم عربی کُتُب میں پھیلے ہوئے فقہی مسائل کوسِلکِ تحریر میں پِرَو کر ایک مقام پر جمع کردیا ۔ انسان کی پیدائش سے لے کر وفات تک درپیش ہونے والے ہزارہامسائل کا بیان بہارِ شریعت میں موجود ہے ۔ان میں بے شمار مسائل ایسے بھی ہیں جن کا سیکھنا ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن پر فرضِ عَین ہے۔'' (تذکرہ صدرالشریعہ ،ص۴۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!''بہارِ شریعت ''کے اس عظیم علمی ذخیرے کومُفید سے مُفید تربنانے کے لئے اس پر دعوتِ اسلامی کی مجلس، المدینۃ العلمیۃ کے مَدَنی علماء نے تَخریج وتسہیل اور کہیں کہیں حَواشی لکھنے کی سعی کا آغاز کیا اور تادمِ تحریر6 حصوں پرمشتمل پہلی جلد، 16واں حصہ اور7تا13الگ الگ حصے''مکتبۃ المد ینہ''سے طبع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں ۔دعوتِ اسلامی کی اِن علمی کاوشوں کی متعدد علمائے کرام دامت فیوضھم نے پذیرائی فرمائی ۔چنانچہ جگر گوشہ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی ،حضرت علامہ مولانا قاری محمد رضاء المصطفٰی اعظمی مدظلہ العالی اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: فی زمانہ اَکابرین کی بابرکت صحبتوں اور پاکیزہ برکتوں سے صفحہ ہستی پر نمودار ہونے والی سنّتوں کا پیکر عشقِ رِسالت مَآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا مظہر عالمی تبلیغی و اِصلاحی جماعت دعوتِ اسلامی نے بہارشریعت کی تسہیل و تخریج کرکے اس کے حق کو ادا کردیا۔ دعوتِ اسلامی کے شعبہ علمی کی اس شاندار کاوش کو دیکھ کر یقیناً صدر الشریعہ بدرالطریقہ حکیم ابوالعلیٰ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی روح پرنور اعلیٰ علیین میں خوش ہورہی ہوگی، کیونکہ صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ نے فرمایا تھا کہ '' اگر اورنگزیب عالمگیر علیہ الرحمۃ میری اس کاوش (بہارِ شریعت) کو دیکھ لیتے تو یقیناً اسے (فقہ حنفی کے مسائل پر مشتمل خزانہ جان کر) سونے میں تولتے ۔'' اور آج مجلسِ علمیہ کی اس مبارک کاوش نے صدر الشریعہ کی تمنّا کو پورا کردیا ، بلکہ یوں کہیے کہ سونے میں تولنے سے بھی زیادہ اہم کارنامہ انجام دے دیا۔میرے علم کے مُطابق اِس وقت دعوتِ اسلامی کے زیر ِ انتظام کئی شعبہ جات دینِ متین کی بھرپور خدمت میں صبح و شام مصروفِ عمل ہیں اور شبانہ روز محنت اوراَنتھک جدوجہد کے ذریعہ درسی و تبلیغی کُتب کثیرہ منصہ شہود پر لارہے ہیں۔ اَسلاف کی بے شمار عربی کُتب کے صحیح اُردو تراجم بھی دعوتِ اسلامی کے اَہم ترین کارناموں میں سے سنہری کارنامہ ہے ، دین کی جس خدمت کا بیڑہ بھی دعوتِ اسلامی نے اُٹھایا ہے اسے کامیابی کے ساحل سے ہمکنار کرکے ہی دَم لیا ہے۔ میری نگاہوں میں دعوتِ اسلامی اعلیٰ حضرت و صدر الشریعہ علیہما الرحمۃ کے فیضان کا وہ سفینہ ہے جو الحادو بے دینی، منکرات و بدعات کی تندوتیز موجوں کا مقابلہ مردانہ وار کررہی ہے۔بہارِ شریعت کی تسہیل و تخریج سے پہلے صرف عُلماء کرام ہی استفادہ کرسکتے تھے اور تسہیل و تخریج کے بعد عوام الناس بھی یقینا اب مستفیض ہوسکیں گے ۔ اس سے قبل مُشکل و قدیمی الفاظوں کو تلاش کرنے کے لیے عُلماء بھی عربی و اُردو لغات اپنے پاس رکھتے تھے، اور اب سارے مشکل و قدیم الفاظوں کے معانی جلد کے اوّل میں ہی درج کردیئے گئے ہیں۔ اور یہ دیکھ کر بھی نہایت مسرت ہوئی کہ ہر مسئلہ ایک نئی سطر سے شروع ہوتا ہے۔اﷲ ربّ العزّت دعوتِ اسلامی کی اِس عِلمی کاوِش کو اپنی بارگاہ میں مقبول فرمائے اور مجلسِ علمیہ کے تمام لوگوں کے ہاتھوں میں وہ پاکیزہ تاثیر پیدا فرمادے کہ ان کے کیے ہوئے تراجم و حواشی ، تسہیل وتخریج ، تفسیر و تعبیر اطراف و اکناف اور شرق تا غرب کے مسلمانوں میں مقبول و محبوب