مسئلہ ۲: حُقّہ، سگار، سگریٹ، چرٹ پینے سے روزہ جاتا رہتا ہے، اگرچہ اپنے خیال میں حلق تک دھواں نہ پہنچاتا ہو، بلکہ پان یا صرف تمباکو کھانے سے بھی روزہ جاتا رہے گا، اگرچہ پیک تھوک دی ہو کہ ا س کے باریک اجزا ضرور حلق میں پہنچتے ہیں۔
مسئلہ ۳: شکر وغیرہ ایسی چیزیں جو مونھ میں رکھنے سے گھل جاتی ہیں، مونھ میں رکھی اور تھوک نگل گیا روزہ جاتا رہا۔ یوہیں دانتوں کے درمیان کوئی چیز چنے کے برابر یا زیادہ تھی اُسے کھا گیا یا کم ہی تھی (1)، مگر مونھ سے نکال کر پھر کھالی یا دانتوں سے خون نکل کر حلق سے نیچے اُترا اور خون تھوک سے زیادہ یا برابر تھا یا کم تھا، مگر اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوا تو ان سب صورتوں میں روزہ جاتا رہا اور اگر کم تھا اور مزہ بھی محسوس نہ ہوا، تو نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴: روزہ میں دانت اکھڑوایا اورخون نکل کر حلق سے نیچے اُترا، اگرچہ سوتے میں ایسا ہوا تو اس روزہ کی قضا واجب ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵: کوئی چیز پاخانہ کے مقام میں رکھی، اگر اس کا دوسرا سرا باہر رہا تو نہیں ٹوٹا، ورنہ جاتا رہا لیکن اگر وہ تر ہے اور اس کی رطوبت اندر پہنچی تو مطلقاً جاتا رہا، یہی حکم شرم گاہ زن (4) کا ہے، شرمگاہ سے مراد اس باب میں فرج داخل (5) ہے۔ یوہیں اگر ڈورے میں بوٹی باندھ کر نگل لی، اگر ڈورے کا دوسرا کنارہ باہر رہا اور جلد نکال لی کہ گلنے نہ پائی تو نہیں گیا اور اگر ڈورے کا دوسرا کنارہ بھی اندر چلا گیا یا بوٹی کا کچھ حصہ اندر رہ گیا تو روزہ جاتا رہا۔ (6) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۶: عورت نے پیشاب کے مقام میں روئی کا کپڑا رکھا اور بالکل باہر نہ رہا، روزہ جاتا رہا اور خشک انگلی پاخانہ کے مقام میں رکھی یا عورت نے شرمگاہ میں تو روزہ نہ گیا اور بھیگی تھی یا اس پر کچھ لگا تھا تو جاتا رہا، بشرطیکہ پاخانہ کے مقام میں اُس جگہ رکھی ہو جہاں عمل دیتے وقت حقنہ کا سرا رکھتے ہیں۔ (7) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)