Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
975 - 1029
    مسئلہ ۲: شعبان کی انتیس ۲۹ کو شام کے وقت چاند دیکھیں دکھائی دے تو کل روزہ رکھیں، ورنہ شعبان کے تیس ۳۰ دن پورے کر کے رمضان کا مہینہ شروع کریں۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳: کسی نے رمضان یا عید کا چاند دیکھا مگر اس کی گواہی کسی وجہ شرعی سے ردکر دی گئی مثلاً فاسق ہے یا عید کا چاند اس نے تنہا دیکھا تو اُسے حکم ہے کہ روزہ رکھے، اگرچہ اپنے آپ عید کا چاند دیکھ لیا ہے اور اس روزہ کو توڑنا جائز نہیں، مگر توڑے گا تو کفّارہ لازم نہیں (2) اور اس صورت میں اگر رمضان کا چاند تھا اور اُس نے اپنے حسابوں تیس روزے پورے کیے، مگر عید کے چاند کے وقت پھر اَبر یا غبار ہے تو اُسے بھی ایک دن اور رکھنے کا حکم ہے۔ (3) (عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۴: تنہا اُس نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا پھر روزہ توڑ دیا یا قاضی کے یہاں گواہی بھی دی تھی اور ابھی اُس نے اُس کی گواہی پر حکم نہیں دیا تھا کہ اُس نے روزہ توڑ دیا تو بھی کفّارہ لازم نہیں، صرف اُس روزہ کی قضا دے اور اگر قاضی نے اُس کی گواہی قبول کر لی۔ اُس کے بعد اُس نے روزہ توڑ دیا تو کفّارہ لازم ہے اگرچہ یہ فاسق ہو۔ (4) (درمختار) 

    مسئلہ ۵: جوشخص علم ہیأت جانتا ہے، اُس کا اپنے علم ہیئات کے ذریعہ سے کہہ دینا کہ آج چاند ہوا یا نہیں ہوا کوئی چیز نہیں اگرچہ وہ عادل ہو، اگرچہ کئی شخص ایسا کہتے ہوں کہ شرع میں چاند دیکھنے یا گواہی سے ثبوت کا اعتبار ہے۔ (5) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۶: ہر گواہی میں یہ کہنا ضرور ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بغیر اس کے شہادت نہیں، مگر اَبر میں رمضان کے چاند کی گواہی میں اس کہنے کی ضرورت نہیں، اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نے اپنی آنکھ سے اس رمضان کا چاند آج یا کل یا فلاں دن دیکھا ہے۔ یوہیں اس کی گواہی میں دعویٰ اور مجلس قضا اور حاکم کا حکم بھی شرط نہیں، یہاں تک کہ اگر کسی نے حاکم کے یہاں گواہی دی تو جس نے اُس کی گواہی سُنی اور اُس کو بظاہر معلوم ہوا کہ یہ عادل ہے اس پر روزہ رکھنا ضروری ہے، ا گرچہ حاکم کا حکم اُس نے نہ سُنا ہو مثلاً حکم دینے سے پہلے ہی چلا گیا۔ (6) (درمختار، عالمگیری) 

    مسئلہ ۷: اَبر اور غبار میں رمضان کا ثبوت ایک مسلمان عاقل بالغ، مستور یا عادل شخص سے ہو جاتا ہے، وہ مرد ہو خواہ عورت، آزاد ہو یا باندی غلام یا اس پر تہمت زنا کی حد ماری گئی ہو، جب کہ توبہ کر چکا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثاني في رؤیۃ الہلال، ج۱، ص۱۹۷. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۴. 

3۔۔۔۔۔۔ 

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۴. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثاني في رویۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۷. 

6۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۶.
Flag Counter