روزہ نہ ہوا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: رات میں نیّت کی پھر اس کے بعد رات ہی میں کھایا پیا، تو نیّت جاتی نہ رہی وہی پہلی کافی ہے پھر سے نیّت کرنا ضرور نہیں۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۵: عورت حیض و نفاس والی تھی، اُس نے رات میں کل روزہ رکھنے کی نیّت کی اور صبح صادق سے پہلے حیض و نفاس سے پاک ہوگئی تو روزہ صحیح ہوگیا۔ (3) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۶: دن میں وہ نیّت کام کی ہے کہ صبح صادق سے نیّت کرتے وقت تک روزہ کے خلاف کوئی امر نہ پایا گیا ہو، لہٰذا اگر صبح صادق کے بعد بھول کر بھی کھا پی لیا ہو یا جماع کر لیا تو اب نیّت نہیں ہوسکتی۔ (4) (جوہرہ) مگر معتمد یہ ہے کہ بھولنے کی حالت میں اب بھی نیّت صحیح ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: جس طرح نماز میں کلام کی نیّت کی، مگر بات نہ کی تو نماز فا سد نہ ہوگی۔ یوہیں روزہ میں توڑنے کی نیّت سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، جب تک توڑنے والی چیز نہ کرے۔ (6) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۸: اگر رات میں روزہ کی نیّت کی پھر پکّا ارادہ کر لیا کہ نہیں رکھے گا تو وہ نیّت جاتی رہی۔ اگر نئی نیّت نہ کی اور دن بھر بھوکا پیاسا رہا اورجماع سے بچا تو روزہ نہ ہوا۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: سحری کھانا بھی نیّت ہے، خواہ رمضان کے روزے کے لیے ہو یا کسی اور روزہ کے لیے، مگر جب سحری کھاتے وقت یہ ارادہ ہے کہ صبح کو روزہ نہ ہوگا تو یہ سحری کھانا نیّت نہیں۔ (8) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: رمضان کے ہر روزہ کے لیے نئی نیّت کی ضرورت ہے۔ پہلی یا کسی تاریخ میں پورے رمضان کے روزہ کی نیّت کر لی تو یہ نیّت صرف اُسی ایک دن کے حق میں ہے، باقی دنوں کے لیے نہیں۔ (9) (جوہرہ)