روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیّت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع سے باز رکھنا، عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱: روزے کے تین درجے ہیں۔ ایک عام لوگوں کا روزہ کہ یہی پیٹ اور شرم گاہ کو کھانے پینے جماع سے روکنا۔ دوسرا خواص کا روزہ کہ انکے علاوہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ پاؤں اور تمام اعضا کو گناہ سے باز رکھنا۔ تیسرا خاص الخاص کا کہ جمیع ماسوی اﷲ (2) سے اپنے کو بالکلیہ جُدا کرکے صرف اسی کی طرف متوجہ رہنا۔ (3) (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۲: روزے کی پانچ قسمیں ہیں:
(۱) فرض۔
(۲) واجب۔
(۳) نفل۔
(۴) مکروہِ تنزیہی۔
(۵) مکروہِ تحریمی۔
فرض و واجب کی دو قسمیں ہیں: معیّن و غیر معیّن۔ فرض معیّن جیسے ادائے رمضان۔ فرض غیر معیّن جیسے قضائے رمضان اور روزہ کفارہ۔ واجب معیّن جیسے نذر معیّن۔ واجب غیر معیّن جیسے نذر مطلق۔
نفل دو ۲ ہیں: نفل مسنون، نفل مستحب جیسے عاشورا یعنی دسویں محرم کاروزہ اور اس کے ساتھ نویں کا بھی اور ہر مہینے میں تیرھویں، چودھویں، پندرھویں اور عرفہ کا روزہ، پیر اور جمعرات کا روزہ، شش عید کے روزے صوم داود علیہ السلام، یعنی ایک دن روزہ ایک دن افطار۔
مکروہِ تنزیہی جیسے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنا۔ نیروز و مہرگان کے دن روزہ۔ صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنا)، صومِ سکوت (یعنی ایسا روزہ جس میں کچھ بات نہ کرے)، صومِ وصال کہ روزہ رکھ کر افطار نہ کرے اور دوسرے دن پھر روزہ