فرمایا: ''صدقہ خطا کو ایسے بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو۔'' (1)
حدیث ۴۸: امام احمد و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ہر شخص قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا، اُس وقت تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔'' (2) اور طبرانی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ صدقہ قبر کی حرارت کودفع کرتا ہے۔'' (3)
حدیث ۴۹: طبرانی و بیہقی حسن بصری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مرسلاً راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: رب عزوجل فرماتا ہے: ''اے ابنِ آدم! اپنے خزانہ میں سے میرے پاس کچھ جمع کر دے، نہ جلے گا، نہ ڈوبے گا، نہ چوری جائے گا۔ تجھے میں پورا دوں گا، اُس وقت کہ تو اُس کا زیادہ محتاج ہوگا۔'' (4)
حدیث ۵۰ و ۵۱: امام احمد و بزار و طبرانی و ابن خزیمہ و حاکم و بیہقی بریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور بیہقی ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ''آدمی جب کچھ بھی صدقہ نکالتا ہے تو ستّر ۷۰ شیطان کے جبڑے چیر کر نکلتا ہے۔'' (5)
حدیث ۵۲: طبرانی نے عمرو بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ''مسلمان کا صدقہ عمر میں زیادتی کا سبب ہے اور بُری موت کو دفع کرتا ہے اور اﷲ تعالیٰ اس کی وجہ سے تکبر و فخر کو دور فرما دیتا ہے۔'' (6)
حدیث ۵۳: طبرانی کبیر میں رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ''صدقہ بُرائی کے ستّر ۷۰ دروازوں کو بند کر دیتا ہے۔'' (7)
حدیث ۵۴: ترمذی و ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم حارث اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ ''اﷲ عزوجل نے یحییٰ بن زکریا علیھما الصلوٰۃ والسلام کو پانچ باتوں کی وحی بھیجی کہ خود عمل کریں اور بنی اسرائیل کو حکم فرمائیں کہ وہ ان پر عمل کریں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ اس نے تمھیں صدقہ کا حکم فرمایا ہے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کو دشمن نے قید