حدیث ۳۶: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''صدقہ خطا کو ایسے دور کرتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔'' (1)
حدیث ۳۷: امام احمد بعض صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: کہ ''مسلمان کا سایہ قیامت کے دن اُس کا صدقہ ہوگا۔'' (2)
حدیث ۳۸: صحیح بخاری میں ابوہریرہ و حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''بہتر صدقہ وہ ہے کہ پُشتِ غنیٰ سے ہو یعنی اُس کے بعد تونگری باقی رہے اور ان سے شروع کرو جو تمھاری عیال میں ہیں یعنی پہلے اُن کو دو پھرا وروں کو۔'' (3)
حدیث ۳۹: ابومسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے صحیحین میں مروی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''مسلمان جو کچھ اپنے اہل پر خرچ کرتا ہے، اگر ثواب کے لیے ہے تو یہ بھی صدقہ ہے۔'' (4)
حدیث ۴۰: زینب زوجہ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے صحیحین میں مروی، انہوں نے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کرایا، شوہر اور یتیم بچے جو پرورش میں ہیں ان کو صدقہ دینا کافی ہوسکتا ہے؟ ارشاد فرمایا: ان کو دینے میں دُونا اجر ہے، ایک اجر قرابت اور ایک اجر صدقہ۔'' (5)
حدیث ۴۱: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ و دارمی سلیمان بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مسکین کو صدقہ دینا، صرف صدقہ ہے اور رشتہ والے کو دینا، صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔'' (6)
حدیث ۴۲: امام بخاری و مسلم ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: گھر میں جو کھانے کی چیز ہے، اگر عورت اُس میں سے کچھ دیدے مگر ضائع کرنے کے طور پر نہ ہو تو اُسے دینے کا ثواب ملے گا اور شوہر کو کمانے کا ثواب ملے گا اور خازن (بھنڈاری) کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا۔ ایک کا اجر دوسرے کے اجر کو کم نہ کریگا (7) یعنی اس صورت میں کہ جہاں ایسی عادت جاری ہو کہ عورتیں دیا کرتی ہوں اور شوہر منع نہ کرتے ہوں اور اُسی حد تک جو عادت