| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
مسئلہ ۲۸: طہارت کے بعد ہاتھ پاک ہوگئے مگر پھر دھولینا بلکہ مٹی لگا کر دھونا مستحب ہے۔ (1)
مسئلہ ۲۹: جاڑَوں میں بہ نسبت گرمیوں کے دھونے میں زِیادہ مبالغہ کرے اور اگر جاڑوں میں گرم پانی سے طہارت کرے، تو اسی قدر مبالغہ کرے جتنا گرمیوں میں مگر گرم پانی سے طہارت کرنے میں اتنا ثواب نہیں جتنا سرد پانی سے اور مرض کا بھی احتمال ہے۔ (2)
مسئلہ ۳۰: روزے کے دنوں میں نہ زِیادہ پھیل کر بیٹھے نہ مبالغہ کرے۔ (3)
مسئلہ ۳۱: مرد لُنجھا ہو تو اس کی بی بی استنجا کرادے اور عورت ایسی ہو تو اس کا شوہر اور بی بی نہ ہو یا عورت کا شوہر نہ ہو تو کسی اور رشتہ دار بیٹا، بیٹی، بھائی، بہن سے استنجا نہیں کراسکتے بلکہ معاف ہے۔ (4)
مسئلہ ۳۲: زمزم شریف سے استنجا پاک کرنا مکروہ ہے (5) اور ڈھیلا نہ لیا ہو تو ناجائز۔
مسئلہ ۳۳: وُضو کے بقیہ پانی سے طہارت کرنا خلافِ اَولیٰ ہے۔
مسئلہ ۳۴: طہارت کے بچے ہوئے پانی سے وُضو کر سکتے ہیں، بعض لوگ جو اس کو پھینک دیتے ہیں یہ نہ چاہیے اسراف میں داخل ہے۔ (6)قد تم بحمد اﷲ سبحٰنہ و تعالیٰ ھذا الجزء فی مسائل الطھارۃ ولہ الحمد اولا و اخرا و باطنا و ظاھرا کما یحب ربنا و یرضی وھو بکل شیٍئ علیم ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم و صلی اللہ علی خیر خلقہٖ سیدنا و مولانا محمد و اٰلہ وصحبہ و ا بنہ و ذریتہ و علماء ملتہ و اولیاء امتہ اجمعین اٰمین والحمد للہ رب العٰلمین۔ وانا الفقیر المفتقر الی اللہ الغنی ابو العلا امجد علی الاعظمی غفر اللہ لہ ولوالدیہ۔ اٰمین
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۹. 2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق . 3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق . 4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطھارۃ، الباب السابع في النجاسۃ و أحکامھا، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۹. و ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، فصل الاستنجاء، مطلب: إذا دخل المستنجي في ماء قلیل، ج۱، ص۶۰۷. 5۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، ج۱، ص۳۵۸. و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۴۵۲. 6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص ۵۷۵.