| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
ہیں ،ایسی بے ہُودہ رسموں سے اِحْتِیاط لازم، اکثر عورتوں میں یہ رواج ہے کہ جب تک چلّہ پورا نہ ہولے اگرچہ نِفاس ختم ہو لیا ہو، نہ نماز پڑھیں نہ اپنے کو قابل نماز کے جانیں یہ محض جہالت ہے جس وقت نِفاس ختم ہوا اسی وقت سے نہا کر نماز شروع کردیں اگر نہانے سے بیماری کا پوراا ندیشہ ہو تو تیمم کرلیں۔ (1)
مسئلہ ۴۱: بچہ ابھی آدھے سے زِیادہ پیدا نہیں ہوا اور نماز کا وقت جارہا ہے اور یہ گمان ہے کہ آدھے سے زِیادہ باہر ہونے سے پیشتر وقت ختم ہو جائے گا تو اس وقت کی نماز جس طرح ممکن ہو پڑھے ،اگر قیام، رکوع، سجود نہ ہوسکے،اشارے سے پڑھے، وُضو نہ کرسکے ،تیمم سے پڑھے اور اگر نہ پڑھی تو گناہ گار ہوئی توبہ کرے اور بعد طہارت قضا پڑھے۔ (2)اِستحاضہ کا بیان
حدیث ۱: صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی کہ فاطِمہ بنتِ ابی حُبَیش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ! مجھے اِستحاضہ آتا ہے اور پاک نہیں رہتی تو کیا نماز چھوڑ دوں؟ فرمایا:'' نہ، یہ تو رَگ کا خون ہے، حَیض نہیں ہے، تو جب حَیض کے دن آئیں نماز چھوڑ دے اور جب جاتے رہیں خون دھو اور نماز پڑھ۔'' (3)
حدیث ۲: ابو داود و نَسائی کی روایت میں فاطِمہ بنتِ ابی حُبَیش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے یوں ہے کہ ان سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''جب حَیض کا خون ہو تو سیاہ ہو گا، شناخت میں آئے گا، جب یہ ہو نماز سے باز رہ اور جب دوسری قسم کا ہو تو وُضو کر اور نماز پڑھ، کہ وہ رَگ کا خون ہے۔'' (4)
حدیث ۳: اِمام مالِک و ابو داود و دارمی کی روایت میں ہے کہ ایک عورت کے خون بہتا رہتا ،اس کے لیے ام المومنین امّ سَلَمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضور سے فتویٰ پوچھا ،ارشاد فرمایا کہ: ''اس بیماری سے پیشتر مہینے میں جتنے دن راتیں حَیض آتا تھا ان کی گنتی شمار کرے، مہینے میں انھیں کی مقدار نماز چھوڑ دے اور جب وہ دن جاتے رہیں، تو نہائے اور لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھے۔'' (5)
حدیث ۴: ابو داود و تِرمذی کی روایت ہے ارشاد فرمایا: '' جن دنوں میں حَیض آتا تھا ،ان میں نمازیں چھوڑ دے، پھرــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۳۵۵۔۳۵۶،وغیرہ. 2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب في حکم وطء المستحاضۃ... إلخ، ج۱، ص۵۴۵. 3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الحیض، باب المستحاضۃ وغسلھا وصلا تھا، الحدیث: ۳۳۳، ص۱۸۳. 4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الطھارۃ، باب إذا أ قبلت الحیضۃ تدع الصلا ۃ، الحدیث: ۲۸۶، ج۱، ص۱۳۱. 5۔۔۔۔۔۔ ''المؤطأ '' لإمام مالک،کتاب الطھارۃ، باب المستحاضۃ، الحدیث: ۱۴۰، ج۱، ص۷۷.