Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
381 - 432
جس کی کوئی عادت نہیں وہ دس ۱۰ دن کے بعد کی نمازیں قضا کرے، ہاں اگر عادت کے دنوں کے بعد یا بے عادت والی نے دس ۱۰ دن کے بعد غُسل کر لیا تھا تو ان دنوں کی نمازیں ہو گئیں قضا کی حاجت نہیں اور عادت کے دنوں سے پہلے کے روزوں کی قضا کرے اور بعد کے روزے ہر حال میں ہو گئے۔ 

    مسئلہ ۲۰: جس عورت کو تین ۳ دن رات کے بعد حَیض بند ہو گیا اور عادت کے دن ابھی پورے نہ ہوئے یا نِفاس کا خون عادت پوری ہونے سے پہلے بندہو گیا، تو بند ہونے کے بعد ہی غُسل کرکے نماز پڑھنا شروع کردے۔ عادت کے دنوں کا انتظار نہ کرے۔ (1) 

    مسئلہ ۲۱: عادت کے دنوں سے خون مُتجاوِز ہو گیا ،تو حَیض میں دس دن اور نِفاس میں چالیس دن تک انتظار کرے اگر اس مدت کے اندر بند ہوگیا تو اب سے نہا دھوکر نماز پڑھے اور جو اس مدت کے بعد بھی جاری رہا تو نہائے اور عادت کے بعد باقی دنوں کی قضا کرے۔ (2) 

    مسئلہ ۲۲: حَیض یا نِفاس عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے بندہو گیا تو آخرِ وقتِ مستحب تک انتظار کرکے نہا کر نماز پڑھے اور جو عادت کے دن پورے ہو چکے تو انتظار کی کچھ حاجت نہیں۔ (3) 

    مسئلہ ۲۳: حیض پورے دس دن پر اور نِفاس پورے چالیس دن پر ختم ہوا اور نماز کے وقت میں اگر اتنا بھی باقی ہو کہ اﷲ اکبر کا لفظ کہے تو اس وقت کی نماز اس پر فرض ہو گئی، نہا کر اس کی قضا پڑھے اور اگر اس سے کم میں بند ہوا اور اتنا وقت ہے کہ جلدی سے نہا کر اور کپڑے پہن کر ایک بار اﷲ اکبر کہہ سکتی ہے تو فرض ہو گئی قضا کرے ورنہ نہیں۔ (4) 

    مسئلہ ۲۴: اگر پورے دس دن پر پاک ہوئی اور اتنا وقت رات کا باقی نہیں کہ ایک بار اﷲ اکبر کہہ لے تو اس دن کا روزہ اس پر واجب ہے اور جو کم میں پاک ہوئی اور اتنا وقت ہے کہ صبحِ صادق ہونے سے پہلے نہا کر کپڑے پہن کر اﷲ اکبر کہہ سکتی ہے تو روزہ فرض ہے، اگر نہالے تو بہتر ہے ورنہ بے نہائے نیت کرلے اور صبح کو نہالے اور جو اتنا وقت بھی نہیں تواس دن کا روزہ فرض نہ ہوا، البتہ روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے، کوئی بات ایسی جو روزے کے خلاف ہو مثلاً کھانا،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۵۳۷. 

و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۴، ص۳۶۴،۳۶۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج۱، ص۵۲۴، وغیرہما. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ومطلب: لو أفتی مفت بشیئ... إلخ، ج۱، ص۵۳۸. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق ، ص۵۴۲،وغیرہ.
Flag Counter