کر ادے گا یا اس طرف سانپ ہے وہ کاٹ کھائے گا یا شیر ہے کہ پھاڑ کھائے گا یا کوئی بدکار شخص ہے اور یہ عورت یاا مرد ہے جس کو اپنی بے آبروئی کا گمان صحیح ہے تو تیمم جائز ہے۔ (1)
مسئلہ ۱۶: اگر ایسا دشمن ہے کہ ویسے اس سے کچھ نہ بولے گا مگر کہتا ہے کہ وُضو کے لیے پانی لو گے تو مار ڈالوں گا یا قید کرادوں گا تو اس صورت میں حکم یہ ہے کہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر جب موقع ملے تو وُضو کرکے اعادہ کرلے۔ (2)
مسئلہ ۱۷: قیدی کو قید خانہ والے وُضو نہ کرنے دیں تو تیمم کرکے پڑھ لے اور اعادہ کرے اور اگر وہ دشمن یا قید خانہ والے نماز بھی نہ پڑھنے دیں تو اشارہ سے پڑھے پھر اعادہ کرے۔ (3)
(۵) جنگل میں ڈول رسی نہیں کہ پانی بھرے تو تیمم جائز ہے۔ (4)
مسئلہ ۱۸: اگر ہمراہی کے پاس ڈول رسّی ہے وہ کہتا ہے کہ ٹھہر جا میں پانی بھر کر فارغ ہو کر تجھے دونگا تو مستحب ہے کہ انتظار کرے اور اگر انتظار نہ کیا اور تیمم کرکے پڑھ لی ہوگئی۔ (5)
مسئلہ ۱۹: رسّی چھوٹی ہے کہ پانی تک نہیں پہنچتی مگر اس کے پاس کوئی کپڑا (رومال، عمامہ، دوپٹا وغیرہ) ایسا ہے کہ اس کے جوڑنے سے پانی مل جائے گا تو تیمم جائز نہیں۔ (6)
(۶) پیاس کا خوف یعنی اس کے پاس پانی ہے مگر وُضو یا غُسل کے صرف میں لائے تو خود یا دوسرا مسلمان یا اپنا یااس کا جانور اگرچہ وہ کتّا جس کا پالنا جائز ہے پیاسا رہ جائے گا اور اپنی یا ان میں کسی کی پیاس خواہ فی الحال موجود ہو یا آئندہ اس کا صحیح اندیشہ ہو کہ وہ راہ ایسی ہے کہ دور تک پانی کا پتا نہیں تو تیمم جائز ہے۔ (7)
مسئلہ ۲۰: پانی موجود ہے مگر آٹا گوندھنے کی ضرورت ہے جب بھی تیمم جائز ہے شوربے کی ضرورت کے لیے جائز نہیں۔ (8)
مسئلہ ۲۱: بدن یا کپڑا اس قدر نجس ہے جو مانع جواز نماز ہے اور پانی صرف اتنا ہے کہ چاہے وُضو کرے یا اُس کو پاک