ہو گئی اور اگر آبادی یا آبادی کے قریب میں ہو تو اعادہ کرے۔ (1)
مسئلہ ۱۳: اگر اپنے ساتھی کے پاس پانی ہے اور یہ گمان ہے کہ مانگنے سے دے دے گا تو مانگنے سے پہلے تیمم جائز نہیں پھر اگر نہیں مانگا اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی اور بعد نماز مانگا اور اس نے دے دیا یا بے مانگے اس نے خود دے دیا تو وُضو کرکے نماز کا اعادہ لازم ہے اور اگر مانگا اور نہ دیا تو نماز ہو گئی اور اگر بعد کو بھی نہ مانگا جس سے دینے نہ دینے کا حال کُھلتا اور نہ اس نے خود دیا تو نماز ہوگئی اور اگر دینے کا غالب گمان نہیں اور تیمم کر کے نماز پڑھ لی جب بھی یہی صورتیں ہیں کہ بعد کو پانی دے دیا تو وُضو کرکے نماز کا اعادہ کرے ورنہ ہوگئی۔ (2)
مسئلہ ۱۴: نماز پڑھتے میں کسی کے پاس پانی دیکھا اور گمان غالب ہے کہ دے دیگا تو چاہیے کہ نماز توڑ دے اور اس سے پانی مانگے اور اگر نہیں مانگا اور پوری کرلی اب اس نے خود یا اس کے مانگنے پر دے دیا تو اعادہ لازم ہے اور نہ دے تو ہو گئی اور اگر دینے کا گمان نہ تھا اور نماز کے بعد اس نے خود دے دیا یا مانگنے سے دیا جب بھی اعادہ کرے اور اگر اس نے نہ خود دیا نہ اس نے مانگا کہ حال معلوم ہوتا تو نماز ہو گئی اور اگر نماز پڑھتے میں اس نے خود کہا کہ پانی لو وُضو کر لو اور وہ کہنے والا مسلمان ہے تو نماز جاتی رہی توڑ دینا فرض ہے اور کہنے والا کافر ہے تو نہ توڑے پھر نماز کے بعد اگر اس نے پانی دے دیا تو وُضو کرکے اعادہ کرلے۔ (3)
مسئلہ ۱۵: اور اگر یہ گمان ہے کہ میل کے اندر تو پانی نہیں مگر ایک میل سے کچھ زِیادہ فاصلہ پر مل جائے گا تو مستحب ہے کہ نماز کے آخر وقت مستحب تک تاخیر کرے یعنی عصر و مغرب و عشاء میں اتنی دیر نہ کرے کہ وقتِ کراہت آجائے۔ اگر تاخیر نہ کی اور تیمم کرکے پڑھ لی تو ہوگئی۔
(۳) اتنی سردی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہونے کا قوی اندیشہ ہو اور لحاف وغیرہ کوئی ایسی چیز اس کے پاس نہیں جسے نہانے کے بعد اوڑھے اور سردی کے ضرر سے بچے نہ آگ ہے جسے تاپ سکے تو تیمم جائز ہے۔
(۴) دشمن کا خوف کہ اگر اس نے دیکھ لیا تو مار ڈالے گا یا مال چھین لے گا یا اس غریب نادار کا قرض خواہ ہے کہ اسے قید