Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
346 - 432
    حدیث ۶: صحیحین میں ابو جُہَیم بن حارث رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بیر جمل(1) کی جانب سے تشریف لا رہے تھے ایک شخص نے حضور کو سلام کیا اس کا جواب نہ دیا یہاں تک کہ ایک دیوار کی جانب متوجہ ہوئے اور مونھ اور ہاتھوں کا مسح فرمایا پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ (2)
تیمّم کے مسائل
    مسئلہ ۱: جس کا وُضو نہ ہو یا نہانے کی ضرورت ہو اور پانی پر قدرت نہ ہو تو وُضو و غُسل کی جگہ تیمم کرے۔ پانی پر قدرت نہ ہونے کی چند صورتیں ہیں: (۱) ایسی بیماری ہو کہ وُضو یا غُسل سے اس کے زِیادہ ہونے یا دیر میں اچھا ہونے کا صحیح اندیشہ ہو خواہ یوں کہ اس نے خود آزمایا ہو کہ جب وُضو یا غُسل کرتا ہے تو بیماری بڑھتی ہے یا یوں کہ کسی مسلمان اچھے لائق حکیم نے جو ظاہراً فاسق نہ ہو کہہ دیا ہو کہ پانی نقصان کریگا۔ (3) 

    مسئلہ ۲: محض خیال ہی خیال بیماری بڑھنے کا ہو تو تیمم جائز نہیں۔ یوں ہی کافر یا فاسق یا معمولی طبیب کے کہنے کا اعتبار نہیں۔ 

    مسئلہ ۳: اور اگر پانی بیماری کو نقصان نہیں کرتا مگر وُضو یا غُسل کے لیے حرکت ضرر کرتی ہو یا خود وُضو نہیں کر سکتا اور کوئی ایسا بھی نہیں جو وُضو کرا دے تو بھی تیمم کرے۔ یوہیں کسی کے ہاتھ پھٹ گئے کہ خود وُضو نہیں کر سکتا اور کوئی ایسا بھی نہیں جو وُضو کرا دے تو تیمم کرے۔ (4) 

    مسئلہ ۴: بے وُضو کے اکثر اعضائے وُضو میں یا جنب کے اکثر بدن میں زخم ہو یا چیچک نکلی ہو تو تیمم کرے، ورنہ جو حصہ عُضْوْ یا بدن کا اچھا ہو اس کو دھوئے اور زخم کی جگہ اور بوقت ضرر اس کے آس پاس بھی مسح کرے اور مسح بھی ضرر کرے تو اس عُضْوْ پر کپڑا ڈال کر اس پر مسح کرے۔ (5) 

    مسئلہ ۵: بیماری میں اگر ٹھنڈا پانی نقصان کرتا ہے اور گرم پانی نقصان نہ کرے تو گرم پانی سے وُضو اور غُسل ضرور ی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ مدینہ منورہ میں ایک مقام کا نام ہے۔ ۱۲ 

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب التیمم، باب التیمم في الحضر... إلخ، الحدیث: ۳۳۷، ج۱، ص ۱۳۴. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۸. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الرابع في التیمم، الفصل الأول، ج۱، ص۲۸. 

و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، مطلب في فاقد الطہورین، ج۱، ص۴۸۱.
Flag Counter