جہاں پانی نہ تھا حضور اٹھے اﷲ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی اور لوگوں نے تیمم کیا اس پر اُسَید بن حُضَیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے آل ابوبکر یہ تمہاری پہلی برکت نہیں (یعنی ایسی برکتیں تم سے ہوتی ہی رہتی ہیں) فرماتی ہیں جب میری سواری کا اونٹ اٹھایا گیا وہ ہیکل اس کے نیچے ملی۔ (1)
حدیث ۲: صحیح مسلِم شریف میں بروایت حُذَیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں منجملہ ان باتوں کے جن سے ہم کو لوگوں پر فضیلت دی گئی یہ تین باتیں ہیں۔
(۱) ہماری صفیں ملائکہ کی صفوں کے مثل کی گئیں اور
(۲) ہمارے لیے تمام زمین مسجد کر دی گئی اور
(۳) جب ہم پانی نہ پائیں زمین کی خاک ہمارے لیے پاک کرنے والی بنائی گئی۔ (2)
حدیث ۳: امام احمدو ابو داود و تِرمذی ابوذَر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پاک مٹی مسلمان کا وُضو ہے اگرچہ دس برس پانی نہ پائے اور جب پانی پائے تو اپنے بدن کو پہنچائے (غُسل و وُضو کرے) کہ یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ (3)
حدیث ۴: ابو داود ودارمی نے ابو سعید خُدْری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فرماتے ہیں۔ دو شخص سفر میں گئے اور نماز کا وقت آیا ان کے ساتھ پانی نہ تھا۔ پاک مٹی پر تیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر وقت کے اندر پانی مل گیا ان میں ایک صاحب نے وُضو کر کے نماز کا اعادہ کیا اور دوسرے نے اعادہ نہ کیا پھر جب خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اس کا ذکر کیا تو جس نے اعادہ نہ کیا تھا اس سے فرمایا کہ تو سنّت کو پہنچا اور تیری نماز ہو گئی اور جس نے وُضو کرکے اعادہ کیا تھا اس سے فرمایا تجھے دونا ثواب ہے۔ (4)
حدیث ۵: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں عمران رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے حضور نے نماز پڑھائی جب نماز سے فارغ ہوئے ملاحظہ فرمایا کہ ایک شخص لوگوں سے الگ بیٹھا ہوا ہے جس نے قوم کے ساتھ نماز نہ پڑھی۔ فرمایا: اے شخص تجھے قوم کے ساتھ نماز پڑھنے سے کیا شے مانع آئی۔ عرض کی مجھے نہانے کی حاجت ہے اور پانی نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا، مٹی کولے کہ وہ تجھے کافی ہے۔ (5)