مسئلہ ۱۴: گھر میں رہنے والے جانور جیسے بلّی، چوہا، سانپ، چھپکلی کا جھوٹا مکروہ ہے۔ (1)
مسئلہ ۱۵: اگر کسی کا ہاتھ بلّی نے چاٹنا شروع کیا تو چاہیے کہ فوراً کھینچ لے یوہیں چھوڑ دینا کہ چاٹتی رہے مکروہ ہے اور چاہیے کہ ہاتھ دھو ڈالے بے دھوئے اگر نماز پڑھ لی تو ہو گئی مگر خلافِ اَولیٰ ہوئی۔ (2)
مسئلہ ۱۶: بلّی نے چوہا کھایا اور فوراً برتن میں مونھ ڈال دیا تو ناپاک ہو گیا اور اگر زبان سے مونھ چاٹ لیا کہ خون کا اثر جاتا رہا تو ناپاک نہیں۔ (3)
مسئلہ ۱۷: پانی کے رہنے والے جانور کا جھوٹا پاک ہے خواہ ان کی پیدائش پانی میں ہو یا نہیں۔ (4)
مسئلہ ۱۸: گدھے، خچر کا جھوٹا مشکوک ہے یعنی اس کے قابل وُضو ہونے میں شک ہے، و لہٰذا اس سے وُضو نہیں ہوسکتا کہ حدث متیقن طہارت مشکوک سے زائل نہ ہوگا۔ (5)
مسئلہ ۱۹: جو جھوٹا پانی پاک ہے اس سے وُضو اور غُسل جائز ہیں مگر جنب نے بغیر کُلی کیے پانی پیا تو اس جھوٹے پانی سے وُضو ناجائز ہے کہ وہ مستعمل ہوگیا۔
مسئلہ ۲۰: اچھا پانی ہوتے ہوئے مکروہ پانی سے وُضو و غُسل مکروہ اور اگر اچھا پانی موجود نہیں تو کوئی حَرَج نہیں اسی طرح مکروہ جھوٹے کا کھانا پینا بھی مالدار کو مکروہ ہے۔ غریب محتاج کو بلا کراہت جائز۔ (6)
مسئلہ ۲۱: اچھا پانی ہوتے ہوئے مشکوک سے وُضو و غُسل جائز نہیں اور اگر اچھا پانی نہ ہو تو اسی سے وُضو و غُسل کرلے اور تیمم بھی اور بہتر یہ ہے کہ وُضو پہلے کر لے اور اگر عکس کیا یعنی پہلے تیمم کیا پھر وُضو جب بھی حَرَج نہیں اور اس صورت میں وُضو اور غُسل میں نیت کرنی ضرور اور اگر وُضو کیا اور تیمم نہ کیا یا تیمم کیا اور وُضو نہ کیا تو نماز نہ ہوگی۔ (7)
مسئلہ ۲۲: مشکوک جھوٹے کا کھانا پینا نہیں چاہیے۔ (8)