Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
342 - 432
    مسئلہ ۶: جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے چوپائے ہوں یا پرند ان کا جھوٹا پاک ہے اگرچہ نر ہوں جیسے گائے، بیل، بھینس، بکری، کبوتر، تیتر وغیرہ۔ (1) 

    مسئلہ ۷: جو مرغی چُھوٹی پھرتی اور غلیظ پر مونھ ڈالتی ہو اس کا جھوٹا مکروہ ہے اور بند رہتی ہو تو پاک ہے۔ (2) 

    مسئلہ ۸: یوہیں بعض گائیں جن کی عادت غلیظ کھانے کی ہوتی ہے ان کا جھوٹا مکروہ ہے اور اگر ابھی نَجاست کھائی اور اس کے بعد کوئی ایسی بات نہ پائی گئی جس سے اس کے مونھ کی طہارت ہو جائے(مثلاً آبِ جاری میں پانی پینا یا غیر جاری میں تین جگہ سے پینا) اور اس حالت میں پانی میں مونھ ڈال دیا تو ناپاک ہو گیا۔ اسی طرح اگر بیل، بھینسے، بکرے نروں نے حسبِ عادت مادہ کا پیشاب سُونگھا اور اس سے ان کا مونھ ناپاک ہوا اور نگاہ سے غائب نہ ہوئے نہ اتنی دیر گزری جس میں طہارت ہو جاتی تو ان کا جھوٹا ناپاک ہے اور اگر چار پانیوں میں مونھ ڈالیں تو پہلے تین ناپاک چوتھا پاک۔ (3) 

    مسئلہ ۹: گھوڑے کا جھوٹا پاک ہے۔ (4) 

    مسئلہ ۱۰: سُوئر، کتا، شیر، چیتا، بھیڑیا، ہاتھی، گیدڑ اور دوسرے درندوں کا جھوٹا ناپاک ہے۔ (5) 

    مسئلہ ۱۱: کُتّے نے برتن میں مونھ ڈالا تو اگر وہ چینی یا دھات کا ہے یا مٹی کا روغنی یا استعمالی چکنا تو تین بار دھونے سے پاک ہو جائے گا ورنہ ہر بار سُکھا کر۔ ہاں چینی میں بال ہو یا اور برتن میں درار ہو تو تین بار سُکھا کر پاک ہو گا فقط دھونے سے پاک نہ ہوگا۔ (6) 

    مسئلہ ۱۲: مٹکے کو کُتّے نے اوپر سے چاٹا اس میں کا پانی ناپاک نہ ہوگا۔ (7) 

    مسئلہ ۱۳: اڑنے والے شکاری جانور جیسے شکرا، باز، بہری، چیل وغیرہ کا جھوٹا مکروہ ہے اور یہی حکم کوّے کا ہے اور اگر ان کو پال کر شکار کے لیے سِکھالیا ہو اور چونچ میں نَجاست نہ لگی ہو تو اس کا جھوٹا پاک ہے۔ (8)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۳. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، فصل في البئر، مطلب في السؤر، 

ج۱، ص۴۲۵.                 3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۳. 

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۲۴. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، ج۴، ص۵۵۹. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطہارۃ، الباب الثالث في المیاہ، الفصل الثاني، ج۱، ص۲۴. 

8۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.
Flag Counter