Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
331 - 432
    مسئلہ ۱۰: دس ہاتھ لنبا، دس ہاتھ چوڑا جو حوض ہو اسے دَہ در دَہ اور بڑا حوض کہتے ہیں۔ یوہیں بیس ۲۰ ہاتھ لنبا، پانچ ہاتھ چوڑا، یا پچیس ہاتھ لنبا، چار ہاتھ چوڑا، غرض کل لنبائی چوڑائی سو ہاتھ ہو (1) اور اگر گول ہو تو اس کی گولائی تقریباً ساڑھے پینتیس ہاتھ ہو اور سو ہاتھ لنبائی نہ ہو تو چھوٹا حوض ہے اور اس کے پانی کو تھوڑا کہیں گے اگرچہ کتناہی گہرا ہو۔ 

    تنبیہ: حوض کے بڑے چھوٹے ہونے میں خود اس حوض کی پیمائش کا اعتبار نہیں، بلکہ اس میں جو پانی ہے اس کی بالائی سطح دیکھی جائے گی، تو اگر حوض بڑا ہے مگر اب پانی کم ہو کر دَہ در دَہ نہ رہا تو وہ اس حالت میں بڑ ا حوض نہیں کہا جائے گا، نیز حوض اسی کو نہیں کہیں گے جو مسجدوں، عیدگاہوں میں بنالیے جاتے ہیں بلکہ ہر وہ گڑھا جس کی پیمائش سو ۱۰۰ ہاتھ ہے بڑا حوض ہے ا ور اس سے کم ہے تو چھوٹا۔ (2) 

    مسئلہ ۱۱: دَہ در دَہ (3) حوض میں صرف اتنا دَل درکار ہے کہ اتنی مساحت میں زمین کہیں سے کھلی نہ ہو اور یہ جوبہت کتابوں میں فرمایا ہے کہ لَپ یا چُلّو میں پانی لینے سے زمین نہ کُھلے اس کی حاجت اس کے کثیر رہنے کے لیے ہے کہ وقتِ استعمال اگر پانی اُٹھانے سے زمین کُھل گئی تو اس وقت پانی سو ۱۰۰ ہاتھ کی مساحت میں نہ رہا ایسے حوض کا پانی بہتے پانی کے حکم میں ہے، نَجاست پڑنے سے ناپاک نہ ہو گا جب تک نَجاست سے رنگ یا بُو یا مزہ نہ بدلے اور ایسا حوض اگرچہ نَجاست پڑنے سے نجس نہ ہو گا مگر قصداً اس میں نَجاست ڈالنا منع ہے۔ (4) 

    مسئلہ ۱۲: بڑے حوض کے نجس نہ ہونے کی یہ شرط ہے کہ اس کا پانی متصل ہو توایسے حوض میں اگر لٹھے یا کَڑیاں گاڑی گئی ہوں تو اُن لٹھوں کڑیوں کے علاوہ باقی جگہ اگر سو ۱۰۰ ہاتھ ہے تو بڑا ہے ورنہ نہیں، البتہ پتلی پتلی چیزیں جیسے گھاس، نرکل، کھیتی، اس کے اتصال کو مانع نہیں۔ (5) 

    مسئلہ ۱۳: بڑے حوض میں ایسی نَجاست پڑی کہ دکھائی نہ دے جیسے شراب، پیشاب تو اس کی ہر جانب سے وُضو جائز ہے اور اگر دیکھنے میں آتی ہو جیسے پاخانہ،یا کوئی مَرا ہوا جانور، تو جس طرف وہ نَجاست ہو اس طرف وُضو نہ کرنا بہتر ہے دوسری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۲۷۴،۲۸۷. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ، مطلب: لو دخل الماء من اعلی... إلخ، ج۱، ص۳۷۸. 

و ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۲۷۴.

3۔۔۔۔۔۔ والمسأالۃ مصرحۃ في ہبۃ الجیر بما لامزید علیہ من شاء الا طلاع فلیر اجع الیھا. ۱۲ منہ حفظہ ربہ

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۲۷۴. 

5۔۔۔۔۔۔ ''خلاصۃ الفتاوی''، کتاب الطہارات، ج۱، ص۴. 

و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲، ص۱۸۹.
Flag Counter