وسلَّم فرماتے ہیں:''مومن کا تہبند آدھی پنڈلیوں تک ہے اور اس کے اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو، اس میں بھی حرج نہیں اور اس سے جو نیچے ہو آگ میں ہے اور اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا، جو تہبندکو ازراہِ تکبر گھسیٹے۔'' (1)
حدیث ۹: ابو داود و نسائی و ابن ماجہ نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''اسبال یعنی کپڑے کے نیچا کرنے کی ممانعت تہبندو قمیص و عمامہ سب میں ہے۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کی، عورتوں کے لیے کیا حکم ہے؟ فرمایا: ایک بالشت لٹکالیں (یعنی آدھی پنڈلی کے نیچے ایک بالشت لٹکائیں)عرض کی، اب تو عورتوں کے قدم کھل جائیں گے، ارشاد فرمایا:ایک ہاتھ لٹکالیں اس سے زیادہ نہیں۔''(2)
حدیث۱۰: صحیح مسلم میں عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہتے ہیں:میں رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس سے گزرا اور میرا تہبند کچھ لٹک رہاتھا، ارشاد فرمایا:''عبداﷲ!اپنے تہبندکو اونچا کرو۔''میں نے اونچا کرلیا پھر فرمایا:''زیادہ اونچا کرو۔''میں نے زیادہ کرلیا۔ اس کے بعد میں ہمیشہ کوشش کرتا رہا۔ کسی نے عبداﷲ سے پوچھا، کہاں تک اونچا کیا جائے؟ کہا، نصف پنڈلی تک۔ (3)
حدیث۱۱: صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص اپنا کپڑا تکبر سے نیچا کریگا، اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا۔'' حضرت ابوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرا تہبند لٹک جاتا ہے، مگر اس وقت کہ میں پورا خیال رکھوں(یعنی ان کے شکم پر تہبند رکتا نہیں تھا، سرک جاتا تھا)۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''تم ان میں سے نہیں جو براہِ تکبر لٹکاتے ہیں۔''(4) (یعنی جو بالقصد تہبند کو نیچا کرتے ہیں، اُن کے لیے وہ وعید ہے۔)
حدیث ۱۲: ابو داود نے عکرمہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماکو دیکھا کہ ان کے تہبند کا حاشیہ پشت قدم پر تھا، میں نے کہا: آپ اس طرح کیوں تہبند باندھتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو اس طرح تہبند باندھے ہوئے دیکھا ہے۔''(5)