مسئلہ ۳۸: دو شخصوں نے غلطی سے یہ کیا کہ ہر ایک نے دوسرے کی قربانی کی بکری ذبح کر دی یعنی ہر ایک نے دوسرے کی بکری کو اپنی سمجھ کر قربانی کر دیا تو بکری جس کی تھی اوسی کی قربانی ہوئی اور چونکہ دونوں نے ایسا کیا لہٰذا دونوں کی قربانیاں ہوگئیں اور اس صورت میں کسی پر تاوان نہیں بلکہ ہر ایک اپنی اپنی بکری ذبح شدہ لے لے اور فرض کرو کہ ہر ایک کو اپنی غلطی اوس وقت معلوم ہوئی جب اوس بکری کو صرف کرچکا تو چونکہ ہر ایک نے دوسرے کی بکری کھا ڈالی لہٰذا ہر ایک دوسرے سے معاف کرالے اور اگر معافی پر راضی نہ ہوں تو چونکہ ہر ایک نے دوسرے کی قربانی کا گوشت بلااجازت کھا ڈالا گوشت کی قیمت کا تاوان لے لے اس تاوان کو صدقہ کرے کہ قربانی کے گوشت کے معاوضہ کا یہی حکم ہے۔ یہ تمام باتیں اوس وقت ہیں کہ ہر ایک دوسرے کے اس فعل پر کہ اوس نے اس کی بکری ذبح کر ڈالی راضی ہو تو جس کی بکری تھی اوسی کی قربانی ہوئی اور اگرراضی نہ ہو تو بکری کی قیمت کا تاوان لے گا اور اس صورت میں جس نے ذبح کی اوس کی قربانی ہوئی یعنی بکری کا جب تاوان لیا تو بکری ذابح کی(1)ہوگئی اور اسی کی جانب سے قربانی ہوئی اور گوشت کا بھی یہی مالک ہوا۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۹: دوسرے کی قربانی کی بکری بغیر اوس کی اجازت کے قصداً ذبح کر دی اس کی دو صورتیں ہیں مالک کی طرف سے اس نے قربانی کی یا اپنی طرف سے ،اگر مالک کی نیت سے قربانی کی تو اوس کی قربانی ہوگئی کہ وہ جانور قربانی کے لیے تھا اور قربان کر دیا گیا اس صورت میں مالک اوس سے تاوان نہیں لے سکتا اور اگر اوس نے اپنی طرف سے قربانی کی اور ذبح شدہ بکری کے لینے پر مالک راضی ہے تو قربانی مالک کی جانب سے ہوئی اور ذابح کی نیت کا اعتبار نہیں اور مالک اگر اس پر راضی نہیں بلکہ بکری کا تاوان لیتا ہے تو مالک کی قربانی نہیں ہوئی بلکہ ذابح کی ہوئی کہ تاوان دینے سے بکری کا مالک ہوگیا اور اوس کی اپنی قربانی ہوگئی۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: اگر بکری قربانی کے لیے معین نہ ہو تو بغیر اجازتِ مالک اگر دوسرا شخص قربانی کر دے گا توقربانی نہ ہوگی مثلاً ایک شخص نے پانچ بکریاں خریدی تھیں اور اوس کا یہ خیال تھا کہ ان میں سے ایک بکری کو قربانی کروں گا اور اون میں