اور مزارِع اول کو کچھ نہیں ملے گا اور اگر دوسری مزارَعت میں یہ ٹھہرا ہے کہ ایک تہائی مزارِع دوم کی تو نصف مالکِ زمین کا اور ایک تہائی دوم کی اور چھٹا حصہ مزارع اول کا یا اس کے سوا جو صورت طے پاگئی ہو اس کے مطابق تقسیم ہو۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مالکِ زمین نے مزارِع سے کہا کہ تم اپنے بیجوں سے کاشت کرو دونوں نصف نصف لیں گے اور مزارِع نے دوسرے کو دے دی کہ تم اپنے بیج سے کاشت کرو اور جو کچھ پیداوار ہو اس میں دو تہائیاں تمہاری اس صورت میں مزارِع دوم حسب شرط دو تہائیاں لے گا اور ایک تہائی مالکِ زمین لے گا اور مالکِ زمین مزارِع اول سے تہائی زمین کی اُجرت (لگان)لے گا اور اگر بیج مزارِع اول ہی نے دیے مگر مزارِع دوم کے لیے پیداوار کی دو تہائیاں دینا طے پایا اس صورت میں بھی وہی حکم ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: کاشت کے لیے دوسرے کو زمین دی اور یہ ٹھہرا کہ بیج دونوں کے ہوں گے اور بیل کاشتکار کے ہوں گے اور پیداوار دونوں میں نصف نصف تقسیم ہو جائے گی کاشتکار نے ایک دوسرے شخص کو اپنے حصہ میں شریک کر لیا کہ یہ بھی اس کے ساتھ کام کریگا اس صورت میں مزارعت اور شرکت دونوں فاسد ہیں۔ جتنے جتنے دونوں کے بیج ہوں اسی حساب سے غلہ دونوں میں تقسیم ہوگا اور مالک زمین مزارع اول سے نصف زمین کی اُجرت مثل لے گا اور یہ دوسرا شخص بھی مزارع اول سے اپنے کام کی اُجرت مثل لے گا۔ اور مزارع اول اپنے بیج کی قدر اور جو کچھ زمین کی اُجرت اور کام کی اُجرت دے چکا ہے ان کی قیمت کا غلہ رکھ لے باقی کو صدقہ کر دے۔(3) (عالمگیری)اور اگر کاشتکار نے دوسرے کو شریک نہ کیا ہو جب بھی فاسد ہے اور وہی احکام ہیں جو مذکور ہوئے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)