(۱)عاقدین عاقل بالغ آزاد ہوں اگر نابالغ یا غلام ہو تو اس کا ماذون ہونا(3)ضروری ہے۔
(۲)زمین قابلِ زراعت ہو۔ اگر شور زمین(4)یا بنجر جس میں زراعت کی قابلیت نہیں ہے مزارعت پر دی گئی تو یہ عقد ناجائز ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس وقت زمین قابل زراعت نہیں ہے مگر وہ وجہ زائل ہو جائے گی مثلاً اس وقت وہاں پانی نہیں ہے مگر وقت پر پانی ہو جائے گا یا اُس وقت کھیت پانی میں ڈوبا ہوا ہے بونے کے وقت تک سوکھ جائے گا تو مزارعت جائز ہے۔
(۳) وہ زمین جو مزارعت پر دی گئی معلوم ہو۔
(۴) مالکِ زمین کاشتکار کو وہ زمین سپرد کر دے اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ مالکِ زمین بھی اس میں کام کریگا تومزارَعت صحیح نہیں۔
(۵) بیان مدت مثلاً ایک سال دو سال کے لیے زمین دی اور اگر مدت کا بیان نہ ہو تو صرف پہلی فصل کے لیے مزارعت ہوئی اور اگر ایسی مدت بیان کی جس میں زراعت نہ ہوسکے یا اتنی مدت بیان کی کہ اوتنی مدت تک ایک کے زندہ رہنے کی بظاہر اُمید نہیں ہے تو ان دونوں صورتوں میں مزارعت فاسد۔
(۶) یہ بیان کہ بیج مالک زمین دے گا یا کاشتکار کے ذمہ ہوگا۔ اگر بیان نہ ہو تو وہاں کا جو عرف ہو وہ کیا جائے جیسے یہاں ہندوستان بھر میں یہی عرف ہے کہ بیج کاشتکار کے ہوتے ہیں۔
(۷) یہ بیان کہ کیا چیز بوئے گا اور اگر متعین نہ کرے تو یہ اجازت دے کہ تیرا جو جی چاہے اس میں بونا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کتنے بیج ڈالے گا کہ زمین جتنی ہوتی ہے اسی حساب سے کاشتکار بیج ڈالا کرتے ہیں۔
(۸) ہر ایک کو کیا ملے گا اس کا عقد میں ذکر کرنا ضروری ہے۔ اور جو کچھ پیداوار ہو اس میں دونوں کی شرکت ہواگرفقط ایک کو دینا قرار پایا تو عقد صحیح نہیں۔ اور یہ شرط کہ دوسری چیز میں سے دیا جائے گا اس سے بھی شرکت نہ ہوئی۔