Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
286 - 357
    مسئلہ ۱۱: اگر یتیم و وصی کے مابین مال مشترک ہے تو اس صورت میں وصی مال کو تقسیم نہیں کراسکتا مگر جب کہ تقسیم میں نابالغ کے لیے کھلا ہوا فائدہ معلوم ہوتا ہو۔ اور باپ اور اس کے نابالغ بچہ کے مابین مال مشترک ہو تو باپ تقسیم کراسکتا ہے اگرچہ نابالغ کا کھلا ہوا نفع نہ بھی ہو۔ (1)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۲: بالغ و نابالغ دونوں قسم کے ورثہ ہیں اور بالغِین موجود ہیں وصی نے بالغین کے مقابلہ میں تقسیم کرائی اور سب نابالغوں کے حصے یکجائی رکھے یہ جائز ہے پھر نابالغوں کے حصے تقسیم کرنا چاہے یہ نہیں ہوسکتا اور اگر ایک نابالغ ہے باقی بالغ اور بالغین میں ایک غائب ہے اور باقی موجود وصی نے موجودِین کے مقابلہ میں تقسیم کرائی اور غائب کے حصہ کو نابالغ کے ساتھ رکھا یہ جائز ہے۔ (2)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۳: ورثہ میں بالغ و نابالغ دونوں ہیں وصی نے اس طرح تقسیم کرائی کہ ہر نابالغ کا حصہ بھی ممتاز ہوگیا یہ تقسیم ناجائز ہے۔ میت نے کسی کے لیے تہائی کی وصیت کی ہے وصی نے موصیٰ لہ(3)اور نابالغین کے مابین تقسیم کی موصیٰ لہکی تہائی اس کو دے دی اور دو تہائیاں نابالغین کے لیے رکھیں یہ جائز ہے۔ اور اگر ورثہ بالغ ہوں مگر موجود نہیں ہیں وصی نے تقسیم کر کے موصیٰ لہکی تہائی اسے دے دی اور ورثہ کا حصہ محفوظ رکھا یہ بھی جائز ہے اور اگر موصیٰ لہ غائب ہے وصی نے ورثہ کے مقابل میں تقسیم کر کے موصیٰ لہ کا حصہ محفوظ رکھا یہ تقسیم باطل ہے۔(4) (عالمگیری)
مزارعت کا بیان
    مزارَعت کے متعلق مختلف قسم کی حدیثیں آئیں بعض سے جواز ثابت ہوتا ہے اور بعض سے عدم جواز اسی وجہ سے صحابہ و ائمہ میں اس کے جواز و عدم جواز میں اختلاف رہا۔

    حدیث ۱: صحیح مسلم میں عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی کہتے ہیں ہم مزارعت کیا کرتے تھے اس میں حرج نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ رافع بن خدیج رضی اللہ تعالٰی عنہ نے  جب یہ کہا کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے تو ہم نے اسے چھوڑ دیا۔ (5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب السابع فی بیان من یلی القسمۃ...إلخ،ج۵،ص ۲۱۹.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۲۲۰.

3۔۔۔۔۔۔جس کے متعلق وصیت کی گئی۔

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب القسمۃ، الباب السابع فی بیان من یلی القسمۃ...إلخ،ج۵،ص ۲۱۹،۲۲۰.

5۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب البیوع، باب کراء الأرض، الحدیث: ۱۰۶،۱۰۷۔(۱۵۴۷)،ص۸۳۳.
Flag Counter