مسئلہ ۲: اجناس مختلفہ کی تقسیم میں خیار رویت، خیار شرط، خیار عیب تینوں ثابت ہوتے ہیں اور ذواتُ الامثال جیسے مکیلات(2)و موزونات (3)میں خیار عیب ہوتا ہے خیار شرط و خیار رویت نہیں ہوتا اور غیر مثلی جیسے گائے بکری اور ایک قسم کے کپڑوں میں خیار عیب ہوتا ہے اور فتوےٰاس پر ہے کہ خیار شرط و خیار رویت بھی ہوتا ہے۔ صرف گیہوں تقسیم کیے گئے مگر وہ مختلف قسم کے ہیں تو اس میں بھی خیار رویت حاصل ہوگا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳: دو تھیلیوں میں روپے تھے ایک ایک تھیلی دونوں کو دی گئی اور ایک نے روپے دیکھ لیے تھے دوسرے نے نہیں یہ تقسیم دونوں کے حق میں جائز ہے مگر جبکہ جس نے نہیں دیکھے ہیں اس کے حصہ میں خراب روپے آئے تو اسے خیار حاصل ہوگا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: مکان کی تقسیم ہوئی اسے باہر سے دیکھ لیا ہے اندر سے نہیں دیکھا ہے تو خیار حاصل نہیں۔ تھان تہہ کیے ہوئے اوپر سے دیکھ لیے اندر سے نہیں دیکھے خیار باقی نہ رہا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: تقسیم میں خیار کے وہی احکام ہیں جو بیع میں ہیں لہٰذا اس کے حصہ میں جو چیزیں آئیں اون میں کوئی چیز عیب دار ہے اور قبضہ سے پہلے اسے علم ہوگیا تو سب کو واپس کر دے اس کے حصہ میں ایک ہی قسم کی چیزیں ہوں یا مختلف قسم کی اور اگر قبضہ کے بعد عیب پر مطلع ہو اور اس کا حصہ ایک چیز ہو حقیقۃً یا حکماً جیسے مکیل و موزوں تو سب واپس کر دے یہ نہیں کرسکتا کہ کچھ رکھ لے کچھ واپس کر دے اور اگر مختلف چیزیں ہوں جیسے بکریاں تو صرف عیب دار کو واپس کرسکتا ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: تقسیم میں جو چیز اسے ملی اس نے بیچ ڈالی مشتری نے اس میں عیب پاکر واپس کر دی اگر یہ واپسی قاضی کے حکم سے ہوئی ہے تو تقسیم توڑی جاسکتی ہے اور بغیر حکم قاضی واپسی ہوئی تو تقسیم کو نہیں توڑ سکتا۔(8) (عالمگیری)