نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگر غاصب نے مغصوب کو کسی کے پاس ودیعت رکھا تو مالک اس مودَع سے تاوان لے سکتا ہے ایک سے ضمان لے گا تو دوسرا بری ہو جائے گا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: غاصب الغاصب نے مغصوب چیز غاصب اول کے پاس واپس کر دی تاوان سے بری ہوگیا اور مغصوب چیز غاصب دوم نے ہلاک کر دی اور اُس کی قیمت غاصب اول کو دیدی اب بھی بری ہوگیا اب مالک اس سے تاوان کا مطالبہ نہیں کرسکتا مگر یہ ضرور ہے کہ مغصوب کا واپس کرنا یا اُس کی قیمت ادا کرنا معروف ہو قاضی نے اس کے متعلق فیصلہ کیا ہو یا گواہوں سے ثابت ہو یا خود مالک نے تصدیق کی ہو۔ اور اگر یہ باتیں نہ ہوں بلکہ غاصب اول نے اقرار کیا ہو کہ اُس نے چیز یا اُس کی قیمت مجھ کو دیدی ہے تو یہ اقرار محض غاصب اول کے حق میں معتبر ہے یعنی اُس کو لینے والا قرار دیا جائے گا اصل مالک کے حق میں وہ اقرار بے کار ہے یعنی وہ اب بھی غاصب دوم سے مطالبہ کر کے ضمان وصول کرسکتا ہے مگر چونکہ غاصب اول اقرار کرچکا ہے لہٰذا غاصب دوم اُس سے رجوع کریگا اور اگر غاصب اول سے مالک نے ضمان لیا تو وہ دوم سے نہیں لے سکتا کہ مغصوب یا اُس کی قیمت پانے کا اقرار کرچکا ہے۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: غاصب نے مغصوب کو بطور عاریت دے دیا ہے تو مالک معیر و مستعیر جس سے چاہے ضمان لے سکتا ہے جس سے لے گا وہ دوسرے سے نہیں لے سکتا ہاں اگر مستعیر نے اس چیز کو تلف کر دیا ہے اور مالک نے معیر سے ضمان لیا تو وہ مستعیر سے رجوع کرسکتا ہے۔ اور غاصب نے ہبہ کر دیا ہے اور موہوب لہ کے پاس ہلاک ہوگئی اور مالک نے اس سے ضمان لیا تو یہ واہب سے رجوع نہیں کرسکتا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: غاصب نے مغصوب کو بیچ ڈالا اور مشتری کو تسلیم کر دیا اور مالک نے غاصب سے ضمان لے لیا تو بیع صحیح ہوگئی اور ثمن غاصب کا ہوگیا اور مشتری سے ضمان لیا تو بیع باطل ہوگئی مشتری غاصب سے ثمن واپس لے اور اگر مبیع مشتری کو نہیں دی ہے تو مشتری سے ضمان نہیں لے سکتا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: غاصب نے مغصوب کو رہن رکھ دیا ہے یا اُجرت پر دے دیا ہے اور مالک نے مرتہن یا مستاجر سے تاوان لیا تو یہ غاصب پر رجوع کریں گے ،یوہیں مودَع سے تاوان لیا تو وہ غاصب سے وصول کریگا۔(5) (ردالمحتار)