Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
223 - 357
ضروریات میں اُس کا مال صرف کرسکتے ہیں۔ مودَع مودِع کے مال کو اُس کے والدین پر خرچ کرسکتا ہے جبکہ ایسی جگہ ہو کہ قاضی سے اجازت حاصل نہ کرسکے۔ سفر میں کوئی شخص مرگیا اُس کے سامان کو بیچ کر تجہیز و تکفین میں صرف کرسکتے ہیں اور باقی جو رہ جائے وہ ورثہ کو دے دیں۔ مسجد کا کوئی متولی نہیں ہے اہل محلہ مسجد کی آمدنی کو لوٹے چٹائی وغیرہ ضروریات مسجد میں صرف کرسکتے ہیں۔ میت نے کسی کو وصی نہیں کیا ہے بڑے ورثہ چھوٹوں پر خرچ کرسکتے ہیں۔ (1)(ردالمحتار) 

    مسئلہ ۹: جانور چھوٹ گیا اور اُس نے کسی کا کھیت چر لیا تاوان واجب نہیں۔ بلی نے کسی کا کبوتر کھالیا تو تاوان نہیں اور اگر کبوتر یا مرغی پر بلی چھوڑی اور اُس نے اُسی وقت پکڑ لیا تاوان ہے اور کچھ دیر بعد پکڑا تو تاوان نہیں۔ (2)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۰: مسلمان کے پاس شراب تھی اُسے کسی نے تلف کر دیا (3)اس پر تاوان نہیں تلف کرنے والا مسلم ہو یا کافر اور ذمی کی شراب کسی نے تلف کی تو اُس پر تاوان ہے۔ مسلم نے تلف کی ہے تو قیمت دے اور ذمی نے تلف کی تو اُس کی مثل شراب دے۔(4) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۱: مسلمان نے کافر سے شراب خرید کر پی لی تو نہ ضمان واجب ہے نہ ثمن۔ (5)(درمختار) 

    مسئلہ ۱۲: مسلمان کی شراب غصب کر کے سرکہ بنا لیا اگر ایسی چیز ڈال کر بنایا جس کی کچھ قیمت نہیں ہے مثلا تھوڑا سا نمک یا تھوڑے سے گیہوں تو یہ سرکہ اُسی کا ہے جس کی شراب تھی اور اگر زیادہ نمک وغیرہ ڈالا جس کی کچھ قیمت ہے تو سرکہ غاصب کا ہے اور غاصب پر تاوان بھی نہیں۔ (6)(درمختار) 

    مسئلہ ۱۳: کسی نے دوسرے کی چیز تلف کر دی مالک نے اس کو جائز رکھا کہہ دیا کہ میں نے جائز کر دیا یا میں اس پر راضی ہوں وہ ضمان سے بری نہیں ہوگا یعنی مالک چاہے تو اس کہنے کے بعد بھی ضمان لے سکتا ہے۔ (7)(تنویر) 

    مسئلہ ۱۴: غاصب کے پاس سے کوئی دوسرا غصب کرکے لے گیا مالک کو اختیار ہے غاصبِ اول سے تاوان لے یا غاصبِ دوم سے، اگر غاصبِ اول سے ضمان لیا تو وہ غاصبِ دوم سے رجوع کریگا اور غاصبِ دوم سے لیا تو وہ اول سے رجوع
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الغصب،مطلب: فیما یجوزمن التصرف...إلخ،ج۹،ص۳۳۴.

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الثالث فیما لایجب...إلخ،ج۵،ص۱۳۰.

3۔۔۔۔۔۔ضائع کردیا۔

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الغصب،ج۹، ص ۳۴۹.

5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۵۰.    6۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،ص ۳۵۱.

7۔۔۔۔۔۔''تنویر الأبصار''،کتاب الغصب،ج۹،ص۳۳۱.
Flag Counter