مسئلہ ۱۱: غاصب (1)نے کپڑا غصب کیا تھا اور اوسے پھاڑ ڈالا اس میں تین صورتیں ہیں۔ (۱)اگر اس طرح پھاڑا کہ کام کا نہ رہا تو پوری قیمت تاوان دے۔ (۲)اور اگر زیادہ پھاڑا کہ اس کے بعض منافع فوت ہوگئے مگر کام کا ہے تو مالک کو اختیار ہے کہ کپڑا غاصب کو دیدے اور پوری قیمت وصول کر لے یا کپڑا خود ہی رکھ لے اور جو کمی ہوگئی اوس کا تاوان لے۔ (۳)اور اگر تھوڑا پھاڑا ہے کہ اس کے منافع بدستور باقی ہیں مگر اس میں عیب پیدا ہوگیا تو مالک کو کپڑا رکھ لینا ہوگا اور نقصان کا تاوان لے سکتا ہے۔ اور اگر پھاڑ کر اس نے کچھ صنعت کی مثلاًاُس کا کرتا وغیرہ بنا لیا تو مالک کی ملک جاتی رہی صرف قیمت تاوان میں لے سکتا ہے۔(2) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۲: کپڑا غصب کر کے رنگ دیا مالک کو اختیار ہے کہ کپڑا لے لے اور رنگ کی قیمت دیدے یعنی رنگ کی وجہ سے کپڑے کی قیمت میں جو کچھ زیادتی ہوئی وہ دیدے اور چاہے تو سفید کپڑے کی قیمت تاوان لے اور کپڑا غاصب ہی کو دیدے یا چاہے تو کپڑا بیع کر کے کپڑے کی قیمت کے مقابل میں ثمن کا جو حصہ ہے خود لے اور رنگ کی زیادتی کے مقابل میں ثمن کا جو حصہ ہے وہ غاصب کو دیدے۔ (3)(ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: اگر کپڑا دوسرے کے رنگ میں گر گیا اور اس پر رنگ آگیا تو مالک کو اختیار ہے کہ کپڑا لے کر رنگ کی قیمت دیدے یا کپڑا بیچ کر ثمن کو قیمت پر تقسیم کر دے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: رنگ غصب کر کے اپنا کپڑا رنگ لیا تو رنگ کا تاوان دینا ہوگا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: ایک شخص کا کپڑا غصب کیا دوسرے کا رنگ غصب کیا اور کپڑا رنگ لیا تو کپڑے کا مالک کپڑا لے لے اور رنگ والے کو رنگ یا اُس کی قیمت دیدے یا چاہے تو کپڑا بیچ کر ثمن دونوں پر تقسیم کر دیا جائے اور اگر ایک ہی شخص کے کپڑے اور رنگ دونوں کو غصب کیا اور رنگ دیا تو مالک کو اختیار ہے کہ رنگا ہوا کپڑا لے لے اور اس صورت میں غاصب کو کچھ نہیں دیا جائے گا اور چاہے تو غاصب کو ہی وہ کپڑا دیدے او رکپڑے اور رنگ دونوں کا تاوان لے۔ (6)(عالمگیری)