ان سب کی نسبت قیمی ہونا مُصرَّح ہے۔ تانبا، پیتل، لوہا، سیسہ(1)، کھجور کی سب قسمیں ایک ہی جنس ہیں، سرکہ، آٹا، روئی، اون، کاتی ہوئی اون، ریشم، چونا، روپیہ، اشرفی، پیسہ، بھوسہ، مہندی،وسمہ(2)، خشک پھول، کاغذ، دودھ ان چیزوں کے مثلی ہونے کی تصریح ہے۔ (3)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: مثلی اور قیمی کے متعلق قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کی مثل بازار میں پائی جاتی ہو اور اس کی قیمتوں میں معتدبہ(4)فرق نہ ہو وہ مثلی ہے جیسے انڈے اخروٹ اور جن کی قیمتوں میں بہت کچھ تفاوت ہوتا ہے جیسے گائے، بھینس، آم، امرود وغیرہا یہ سب قیمی ہیں۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: کپڑے جو گزوں سے بکتے ہیں جیسے ململ، لٹھا وغیرہ کہ اس کی سب تہیں ایک سی ہوتی ہیں یہ مثلی ہیں اور جو کپڑے ایسے ہوتے ہیں کہ گزوں سے نہ بکیں وہ قیمی ہیں۔(6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: غاصب یہ کہتا ہے کہ شے مغصوب ہلاک ہوگئی تو اسے حاکم قید کرے جب اتنا زمانہ گزر جائے کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اگر اس کے پاس چیز ہوتی تو ضرور ظاہر کر دیتا قید خانہ میں پڑا نہ رہتا تو اب اس کے متعلق تاوان کا حکم ہوگا خواہ مثل تاوان دلائی جائے یا قیمت۔(7) (ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۲: غاصب کہتا ہے کہ میں نے چیز مالک کو واپس کر دی تھی اس کے یہاں ہلاک ہوئی اور مالک کہتا ہے غاصب کے پاس ہلاک ہوئی اور دونوں نے ثبوت کے گواہ پیش کیے غاصب کے گواہوں کو ترجیح دی جائے گی اور قیمت میں اختلاف ہو تو مالک کے گواہ معتبر ہیں اور اگر خود مغصوب میں اختلاف ہو غاصب کہتا ہے میں نے یہ چیز غصب کی اور مالک کہتا ہے وہ چیز غصب کی تو قسم کے ساتھ غاصب کا قول معتبر ہے۔(8) (درمختار)