اس کی قیمت دو ہزار ہے تو اگر غاصب دوم غاصب اول سے زیادہ مالدار ہے اسی غاصب دوم سے تاوان لے ورنہ متولی کو اختیار ہے جس سے چاہے لے اور جس ایک سے لے گا دوسرا بری ہو جائے گا۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: پرائی دیوار گرا دی تو مالک کا جو کچھ نقصان ہوا لے لے۔ اس میں دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ دیوار کی قیمت اس سے وصول کرے اور گرا ہوا ملبہ اسے دے دے یا ملبہ خود لے لے اور دیوار کی قیمت سے ملبہ کی قیمت کم کر کے باقی اس سے وصول کرے اس کو یہ حق نہیں کہ اس سے دیوار بنوانے کا مطالبہ کرے۔ ہاں اگر مسجد یا کسی عمارت موقوفہ(2)کی دیوار کسی نے گرائی ہے تو اسے دیوار بنوانی ہوگی۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: دیوار گرانے والے نے اگر ویسی ہی دیوار بنوا دی تو ضمان سے بری ہو جائے گا اور اگر دیوار میں نقش و نگار پھول پتے ہیں تو ان کا بھی تاوان دینا ہوگا اور اگر تصویریں بنی ہیں تو رنگ کا ضمان ہے تصاویر کا ضمان نہیں۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: جس چیز کو جہاں سے غصب کیا وہیں واپس کرنا ہوگا غاصب اگر دوسرے شہر میں دینا چاہتا ہے مالک اس سے کہہ سکتا ہے کہ جہاں سے لائے ہو وہیں چل کر دینا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: غاصب کے واپس کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس طرح واپس کرے کہ مالک کو علم ہو جائے اگر اس کی لاعلمی میں چیز واپس کر دی بری ہوگیا مثلاًاس کے صندوق یا تھیلی میں سے روپے نکال لے گیا تھا پھر اس میں رکھ آیا اور مالک کو پتا نہ چلا یہ واپسی بھی صحیح ہے۔ یوہیں اگر کسی دوسرے نام سے مالک کو دے دی جب بھی بری ہو جائے گا مثلاً مالک کو ہبہ کیا یا ودیعت کے نام سے اسے دے آیا بلکہ اگر وہ چیز کھانے کی تھی مالک کو کھلا دی اس صورت میں بھی بری ہو جائے گا مگر اس چیز میں اگر تغییر(6)کر دی ہے اور مالک کو دے آیا تو بری نہیں مثلاًکپڑے کو قطع کر کے اس کو سی کر مالک کو دیا یا گیہوں(7)کو پسوا کر اس کی روٹی مالک کو کھلا دی یا شکر کا شربت بنا کر پلا دیا۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: گیہوں غصب کیے تھے مالک کو یہ گیہوں پیسنے کو دے آیا پیسنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ یہ تو میرے ہی