پاس موجود ہے اور ہلاک ہوگیا ہے تو اس پر ضمان واجب نہیں کہ ثمن بائع کے پاس امانت ہے۔ (1) (ہدایہ، عنایہ)
مسئلہ ۱۲: اکراہ کے ساتھ بیع اگرچہ بیع فاسد ہے مگر اس میں اور دیگر بیوع فاسدہ میں چند وجہ سے فرق ہے۔یہ ۱بیع ؔ اجازت قولی یا فعلی کے بعد صحیح ہو جاتی ہے دوسری بیعیں فاسد کی فاسد ہی رہتی ہیں۔۲جس ؔ نے اس سے خریدا ہے اس کے تصرفات توڑ دیے جائیں گے اگرچہ یکے بعد دیگرے کہیں سے کہیں پہنچی ہو۔۳مبیع ؔ غلام تھا اور مشتری نے اسے آزاد کر دیا تو بائع کو اختیار ہے کہ مشتری سے یوم القبض کی قیمت لے یا یوم العِتاق کی ۴اگر ؔبائع پر اکراہ ہوا تو ثمن اس کے پاس امانت ہے اور مشتری پر اکراہ ہوا تو مبیع اس کے پاس امانت ہے اور دیگر بیوع فاسدہ میں یہ چاروں باتیں نہیں ہیں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: مبیع اگر ہلاک ہوچکی ہے تو بائع اس کی قیمت لے گا یعنی چیز کی جو واجبی قیمت ہوگی وہ مشتری سے وصول کریگا۔(3) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۴: بادشاہ کا کہہ دینا ہی اکراہ ہے اگرچہ وہ دھمکی نہ دے کہ اس کی مخالفت میں جان جانے یا اتلاف عضو کا اندیشہ ہے۔یوہیں جن لوگوں سے اس قسم کا اندیشہ ہو ان کا کہہ دینا ہی اکراہ ہے اگرچہ دھمکی نہ دیں بعض شوہر بھی ایسے ہوتے ہیں کہ اون کا خلاف کرنے میں عورت کو اسی قسم کا اندیشہ ہوتا ہے ایسے شوہر کا کہنا ہی اکراہ ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: معاذ اﷲشراب پینے یا خون پینے یا مردار کا گوشت کھانے یا سوئر(5)کا گوشت کھانے پر اکراہ کیا گیا اگر وہ اکراہ غیر ملجی ہے یعنی حبس و ضرب کی دھمکی (6)ہے تو ان چیزوں کا کھانا پینا جائز نہیں ہے البتہ شراب پینے میں اس صورت میں حد نہیں ماری جائے گی کہ شبہہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے اور اگر وہ اکراہ ملجی ہے یعنی قتل یا قطع عضوکی (7)دھمکی ہے تو ان کاموں کا کرنا جائز بلکہ فرض ہے اور اگر صبر کیا ان کاموں کو نہیں کیا اور مار ڈالا گیا تو گنہگار ہوا کہ شرع نے ان صورتوں میں اس کے لیے یہ چیزیں جائز کی تھیں جس طرح بھوک کی شدت اور اضطرارکی حالت میں یہ چیزیں مباح ہیں۔ (8)ہاں اگر اس کو یہ بات معلوم نہ تھی کہ