مسئلہ ۳۳: موہوب لہ کی طرف سے دوسرے نے عوض دیدیا یہ موہوب لہ سے رجوع نہیں کرسکتا اگرچہ یہ موہوب لہ کا شریک ہی ہو اگرچہ اس نے اُس کے حکم سے عوض دیا ہو کیونکہ موہوب لہ کے ذمہ عوض دینا واجب نہ تھا لہٰذا اُس کا حکم کرنا ایسا ہی ہے جس طرح تبرع کرنے کا حکم ہوتا کہ اس میں رجوع نہیں کرسکتا ہاں اگر اس نے یہ کہہ دیا ہے کہ تم عوض دے دو میں اس کا ضامن ہوں تو اس صورت میں وہ اجنبی موہوب لہ سے لے سکتا ہے۔(1)
(بحر)
مسئلہ ۳۴: ہبہ کا عوض دے دیا اب دیکھتا ہے کہ موہوب(2)میں عیب ہے تو اسے یہ اختیار نہیں کہ موہو ب کو واپس دے کر عوض واپس لے۔ یوہیں واہب (3)نے عوض پر قبضہ کرلیا تو اُسے بھی یہ اختیار نہیں کہ عوض واپس دے کر موہوب کو واپس لے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: مریض نے ہبہ کیا موہوب لہ نے ہبہ کا عوض دیا اور مریض نے اُس پر قبضہ کرلیا پھر مرگیا اور اُس مریض کے پاس اس کے سوا کوئی مال نہ تھا جسے ہبہ کردیا تو اگر وہ عوض اُس مال کی دوتہائی قیمت کی قدر ہو یا زیادہ ہو توہبہ نافذ ہے اور اگر نصف قیمت کی قدر ہو تو ایک سدس(5)اُس کے ورثہ موہوب لہ سے واپس لے سکتے ہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: عوض دینے کے بعد ہبہ میں کسی نے اپنا حق ثابت کیا اور نصف موہوب کو لے لیا تو موہوب لہ واہب سے نصف عوض واپس لے سکتا ہے اور اگر اس کا عکس ہو یعنی نصف عوض میں مستحق نے حق ثابت کرکے لے لیا تو واہب کویہ حق نہیں کہ نصف ہبہ کو واپس لے لے ہاں اگر اس مابقی کو یعنی جو کچھ عوض اس کے پاس رہ گیا ہے اس کو واپس کرکے ہبہ کا کل یا جز لینا چاہتا ہے تو لے سکتا ہے۔