| بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14) |
دونوں لفظوں سے ہبہ ہی مراد ہے اور ہبہ میں شیوع مانع ہے(1) کیونکہ یہاں اغنیا کی رضامندی مقصود ہے اور وہ متعددہیں اور صحیح نہ ہونے کا اِس مقام پر مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں مالک نہیں ہوں گے اگر دونوں کو تقسیم کرکے قبضہ دیدیا دونوں مالک ہوجائیں گے۔(2) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۵۴: دیوار اس کے مکان میں اور پروسی کے مکان میں مشترک ہے اس نے وہ دیوار پروسی کو ہبہ کردی یہ جائزہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۵۵: مریض صرف ثلث مال(4)سے ہبہ کرسکتا ہے اور یہ ہبہ بھی اُس وقت صحیح ہے کہ اُس کی زندگی میں موہوب لہ(5) قبضہ کرلے۔ قبضہ سے پہلے مریض مرگیاتو ہبہ باطل ہوگیا۔(6) (عالمگیری)ہبہ واپس لینے کا بیان
کسی کو چیز دے کر واپس لینا بہت بُری بات ہے حدیث میں ارشاد ہوااسکی مثال ایسی ہے جس طرح کتا قے کرکے پھر چاٹ جاتا(7)لہٰذا مسلمان کو اس سے بچنا ہی چاہیے مگر چونکہ ہبہ ایسا تصرف ہے کہ واہب پر لازم نہیں اگر دے کر واپس ہی لینا چاہے تو قاضی واپس کردے گا اُسے نہ واپس لینے پر مجبور نہیں کریگا اور یہ واپس لینے کا حکم بھی حدیث سے ثابت ہے مگر سب جگہ واپس نہیں کرسکتا بعض صورتیں ایسی ہیں کہ اُن میں واپس لے سکتاہے اور بعض میں نہیں یہاں اِسی کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔
مسئلہ ۱: ہبہ میں اگر موہوب لہ کا قبضہ ہی نہیں ہوا ہے تو ابھی ہبہ کی تمامیت ہی نہیں ہوئی ہے اگر واہب نے رجوع کرلیا توہبہ بھی ختم ہوگیا اس کو رجوع نہیں کہتے رجوع یہ ہے کہ تمام ہوچکا ہے موہوب لہ نے قبضہ کرلیا ہے اس کے بعد واپس لے۔ (8) (درمختار)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔یعنی اشتراک ہبہ کے صحیح ہونے میں رکاوٹ ہے۔ 2۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الھبۃ،ج۷،ص۴۹۳،۴۹۴. و''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۸۵. 3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،ج۸،ص۵۸۶. 4۔۔۔۔۔۔تہائی مال۔ 5۔۔۔۔۔۔جس کے لئے ہبہ کیاگیا۔ 6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب العاشر فی ھبۃ المریض،ج۴،ص۴۰۰. 7۔۔۔۔۔۔''سنن أبی داؤد''،کتاب الإجارۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،الحدیث:۳۵۳۹،ج۳،ص۴۰۶. 8۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،ج۸،ص۵۸۶.