امین کو دینا جائز نہیں اور اگر دیدے گا تو ضامن نہیں ا ور ایک نے قاضی کے پاس دعویٰ کیا کہ میرا حصہ دلا دیا جائے تو قاضی دینے کا حکم نہیں دے گا۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۵۸: دوشخصوں نے ودیعت رکھی تھی ایک نے مودَع سے کہا کہ میرے شریک کو سوروپے دے دو اُس نے دیدیے اس کے بعد بقیہ رقم ضائع ہوگئی تو جو شخص سوروپے لے چکا ہے یہ تنہا اسی کے ہیں اس کا ساتھی اِن میں سے نصف نہیں لے سکتا اور اگر یہ کہا تھاکہ اُس میں سے آدھی رقم اُس کو دے دو اُس نے دیدی اور بقیہ رقم ضائع ہوگئی تو ساتھی جو نصف لے چکا ہے اُس میں سے نصف یہ لے سکتا ہے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۹: دوشخصوں نے ایک شخص کے پا س ہزار روپے ودیعت رکھے مودَع مر گیا اور ایک بیٹا چھوڑا اُن دونوں میں ایک یہ کہتا ہے کہ باپ کے مرنے کے بعد اس لڑکے نے ودیعت ہلاک کردی دوسرے نے کہا معلوم نہیں ودیعت کیا ہوئی توجس نے بیٹے کا ہلاک کرنا بتایا اُس نے مودَع کو بری کردیا یعنی اس کے قول کا مطلب یہ ہوا کہ مرنے والے نے ودیعت کو بعینہٖ(3)قائم رکھا اور بیٹے سے ضمان لینا چاہتا ہے تو بغیر ثبوت اس کی یہ بات کیوں کر مانی جا سکتی ہے لہٰذا بیٹے پر تاوان کا حکم نہیں ہوسکتا اور دوسرا شخص جس نے کہا معلوم نہیں ودیعت کیا ہوئی اُس کو میت کے مال سے پانسو دلائے جائیں گے کیونکہ وہ میت پرتجہیلِ ودیعت کاالزام(4)رکھتا ہے اور اس صورت میں مالِ میت سے تاوان دلانے کا حکم ہوتا ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: مودَع نے ودیعت رکھنے ہی سے انکار کردیا مالک نے گواہوں سے ودیعت رکھنا ثابت کردیا اس کے بعدمودَع گواہ پیش کرتا ہے کہ ودیعت ضائع ہوگئی مودَع کے گواہ نا مقبول ہیں اور اس کے ذمہ تاوان لازم،چاہے اس کے گواہوں سے انکارکے بعد ضائع ہونا ثابت ہویا انکار سے قبل، بہر صورت تاوان دینا ہوگا اور اگر ودیعت رکھنے سے مودَع نے انکار نہیں کیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ میرے پا س تیری ودیعت نہیں ہے اور گواہوں سے ضائع ہونا ثابت کیا،اگر گواہوں سے یہ ثابت ہوکہ اس کہنے سے پہلے ضائع ہوئی تو تاوان نہیں اور اگر اس کہنے کے بعد ضائع ہونا گواہوں نے بیان کیا تو تاوان لازم ہے اور اگر گواہوں سے مطلقاًضائع ہونا ثابت ہوا قبل یا بعد نہیں ثابت ہے جب بھی ضامن ہے۔ (6) (عالمگیری)