مسئلہ ۳: زمینِ اجارہ میں سینٹھے وغیرہ ایسی چیزیں تھیں جن کو کاٹنے کے بعد جڑیں جو باقی رہ گئی ہیں اُن میں آگ دیدی جاتی ہے اس نے آگ دیدی اور اس سے دوسرے لوگوں کا نقصان ہوا مثلاً آگ اُڑ کر کسی کے کھیت میں گئی اور اُس کا کھیت جل گیا اگر اُس وقت ہوا چل رہی تھی تو آگ دینے والے پر تاوان ہے اور اگر ہوا نہیں تھی اُس وقت اس نے آگ دی بعد میں ہوا چل گئی اور دوسرے کی چیز کو نقصان پہنچاتو اس پر تاوان نہیں۔ عاریت کی زمین کا بھی یہی حکم ہے۔(1) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۴: شبِ برا ت میں یا دوسرے موقع پر بعض لوگ مرے چھچوندر(2)یااور قسم کی آتش بازیاں چھوڑتے ہیں یہ فعل حرام اور صرف بیجا (3)ہے اس سے کبھی کبھی یہ نقصان بھی پہنچ جاتا ہے کہ چھپروں میں آگ لگ جاتی ہے یاکسی کے کپڑے جل جاتے ہیں بلکہ کبھی جانیں بھی تلف (4)ہوجاتی ہیں اس شخص پر تاوان لازم ہوگا کہ جب وہ آتشبازی اُڑنے والی ہے اور اس نے چھوڑی تو ویسا ہی ہے جیسا ہوا چلنے کے وقت کسی نے آگ دی۔
مسئلہ ۵: اگر آگ اُڑ کر اتنی دور پہنچی کہ اُتنی دور عادۃً اُڑ کر نہیں پہنچتی اور نقصان ہوا تو تاوان نہیں ہے۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: راستہ میں آگ کا انگارا ڈال دیا یا ایسی جگہ ڈالا کہ وہاں ڈالنے کا اس کو حق نہ تھا اور نقصان ہوا تو تاوان ہے مگر جبکہ وہاں رکھنے سے نقصان نہیں ہوا بلکہ ہوا اُڑا لے گئی اور کسی کو نقصان پہنچا تو تاوان نہیں۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۷: لوہار نے بھٹی سے لوہا نکال کر کوٹا اس کے کوٹنے سے چنگاری اُڑی اور راہ گیر(7)کاکپڑا جل گیا لوہار کو ضمان دینا ہوگااور اس چنگاری سے کسی کی آنکھ پھوٹ گئی دیت واجب ہوگی اور اگر اس نے لوہا نکال کر رکھا تھا، ہوا سے چنگاری اُڑی اور کسی چیز کو جلایا تو تاوان نہیں۔(8) (درمختار، ردالمحتار)