مسئلہ ۲۲: چرواہا خو د بھی بکریاں وغیرہ چرا سکتا ہے اور اُس کے بال بچے اور اجیر(1)بھی چرا سکتے ہیں، اگرکسی اجنبی شخص کو سپرد کرکے چلاگیا اور جانور ضائع ہوگیا تو ضمان واجب ہے مگر جبکہ تھوڑی دیر کے لیے ایسا کیا ہو مثلاً پیشاب کرنے گیا یا کھانے کے لیے گیا تو معاف ہے، اِس صورت میں تاوان واجب نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: چرواہے نے ایک کی بکریاں دوسرے کی بکریوں میں ملادیں اگر امتیاز ممکن ہے توکچھ حرج نہیں اور کس کی کون ہے کس کی کون ہے اس میں چرواہے کاقول معتبر ہے اور اگر امتیاز نہ رہا چرواہا کہتا ہے مجھے شناخت نہیں ہے تو تاوان واجب ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: چرواہوں کا قاعدہ ہے کہ جانور اُس گلی میں چھوڑجاتے ہیں جس میں مالک کا مکان ہے اُ سکے مکان پر نہیں پہنچا تے نہ مالک کو سپرد کرتے ہیں۔ مکان پر پہنچنے سے پہلے اگر گائے یا بکری ضائع ہوگئی تو چرواہے پر ضمان واجب نہیں۔(4)(عالمگیری)مگر جبکہ مالک نے کہہ دیا ہوکہ میرے مکان پر پہنچاجایا کرنا تو ضمان واجب ہے کہ اُس نے شرط کے خلاف کیا۔
مسئلہ ۲۵: گاؤں کے چرواہے گاؤں کے کنارے پر جانور وں کو لاکرچھوڑ دیتے ہیں اگر چر واہے نے یہ شرط کرلی ہے یا یہ متعارف ہے تو وہاں چھوڑ دینا جائز ہے، ضائع ہونے پر ضمان واجب نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: جنگل میں جھاڑیا ں ہیں جہاں جانور چرتے ہیں کہ سب جانور چرواہے کی پیش نظرنہیں ہوتے جیساکہ اکثر جگہ ڈھاک (6)کے جنگل میں ہوتا ہے کوئی جانوراس صورت میں ضائع ہوگیا تو ضمان واجب نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: چرواہا کہیں چلا گیا اور گائے نے کسی کا کھیت چرلیا کھیت والا چرواہے سے تاوان نہیں لے سکتا ہاں آگر اس نے خود کھیت میں چھوڑایا یہ ہانک کرلیے جارہاتھا اور گائے نے اس حالت میں چرلیا تو تاوان واجب ہے۔(8) (عالمگیری)