مسئلہ۳۲: مُصحف شریف (1)کو تلاوت یا پڑھنے کے ليے اُجر ت پرلیا یہ اجارہ نا جائز ہے اُس میں پڑھنے سے اُجرت واجب نہیں ہوگی اسی طرح تفسیر وحدیث وفقہ کی کتابوں کا اُجرت پرلینا بھی نا جائز ہے ان میں بھی اُجرت واجب نہیں ہوگی۔ (2)(بحر)
مسئلہ۳۳: قلم اُجرت پرلیا کہ اُس سے لکھے گا اگر مدت مقرر کردی ہے کہ اتنے دنوں کے ليے ہے تو یہ اجارہ جائز۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ۳۴: جنازہ اُٹھانے یا میت کو نہلانے کی اُجرت دینا وہاں جائز ہے جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس کام کے کرنے والے ہوں اور اگر اس کے سوا کوئی نہ ہو تو اُجرت پر یہ کام نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ شخص اس صورت میں اس کام کے ليے متعین ہے۔ (4)(بحر)
مسئلہ۳۵: اجارہ پر کام کرایا گیااور یہ قرار پایا کہ اُسی میں سے اتنا تم اُجرت میں لے لینا یہ اجارہ فاسد ہے مثلاً کپڑا بُننے کے ليے سوت دیا اور یہ کہہ دیا کہ آدھا کپڑا اُجرت میں لے لینا یا غلہ اُٹھا کر لاؤ اُس میں سے دوسیر مزدوری لے لینا یا چکی چلانے کے ليے بیل ليے اور جو آٹا پیسا جائے گااُس میں سے اتنا اُجرت میں دیا جائے گایوہيں بھاڑ(5)میں چنے وغیرہ بھنواتے ہیں اور یہ ٹھہرا کہ اُن میں سے اتنے بھنائی میں ديے جائیں گے یہ سب صورتیں نا جائز ہیں۔ ان سب میں جائز ہونے کی صورت یہ ہے کہ جو کچھ اُجرت میں دینا ہے اُس کو پہلے سے علحد ا ہ کردے کہ یہ تمھاری اُجرت ہے مثلاً سوت کو دوحصہ کرکے ایک حصہ کی نسبت کہا کہ اس کا کپڑا بُن دو اور دوسرادیا کہ یہ تمھاری مزدوری ہے یا غلہ اُٹھانے والے کو اُسی غلہ میں سے نکال کردیدیا کہ یہ مزدوری ہے اور یہ غلہ فلاں جگہ پہنچادے۔ بھاڑوالے پہلے ہی اپنی بھنائی نکال کر باقی کو بھونتے ہیں اسی طرح سب صورتوں میں کیا جاسکتا ہے دوسری صورت جو از کی یہ ہے کہ مثلاً کہہ دے کہ دوسیر غلہ مزدوری دیں گے یہ نہ کہے کہ اس میں سے دیں گے پھر اگر اُسی میں سے دیدے جب بھی حرج نہیں۔ (6)(درمختار)