مسئلہ ۲۸: تعلیم پر جب اُجرت لینا جائز ہے تو جو اُجرت مقرر ہوئی مستاجر کو دینی ہوگی اور اُس سے جبراً(1) وصول کی جائیگی اور اگراجارہ فاسد ہومثلاً مدت نہیں مقرر کی تو اُجرتِ مثل واجب ہوگی اسی طرح بعض سورتوں کے ختم یا شروع پر جو مٹھائی دی جاتی ہے جس کا وہاں عرف(2)ہے وہ بھی دینی ہوگی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۹: لغت و نحو وصرف و ادب وغیرہا علوم جن کا تعلق زبان سے ہے ان کی تعلیم پر اُجرت لینا بالا جماع جائز ہے اسی طرح قواعد بغدادی پڑھانے یا ہجا کرانے کی اُجرت بھی جائز ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: علم طب اور ریاضی وحساب اور کتابت یا خوشنویسی سکھانے پر نوکر رکھنا جائز ہے منطق کی تعلیم بھی جائز ہے کہ فی نفسہ منطق میں دِین کے خلاف کوئی چیز نہیں اسی وجہ سے متاخرین متکلمین نے منطق کو علمِ کلام کاایک جز قرار دے دیا اور اُصول فقہ میں بھی منطق کے مسائل کو بطور مبادی (5)ذکر کرتے ہیں۔ البتہ فلسفہ دِین اسلام کے بالکل مخالف ہے مگر اُس کو اس ليے پڑھنا تاکہ فلاسفہ (6)کے خیالات معلوم ہوں اور اُن کے استدلالات (7)کا رد کیا جائے جائز ہے اسی طرح دیگر کفار کے اصول و فروع (8)کو جاننا تاکہ اُن کے مذاہب باطلہ کا ابطال کیاجائے(9) جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہے مثلاً جب یہ لوگ اسلام پر حملہ کریں تو بہت سے مواقع پر الزامی جو اب (10) کی ضرورت پڑتی ہے اور جب تک اُن کامذہب معلوم نہ ہو یہ کیونکر ہوسکتا ہے تحقیقی جواب اگرچہ کتنا ہی قوی ہوتا ہے باطل پرست اس کو سُن کرخاموش نہیں ہوتے الزامی جواب کے بعد زبان بند ہوجاتی ہے جس طرح حقائق اشیاء کے منکرین کے متعلق علما نے فرمایا انھيں آگ میں ڈال دیا جائے کہ اپنے جلنے اور آگ کے وجود کا اقرار کریں گے یا جل کر ختم ہو جائیں گے۔
مسئلہ۳۱: بچوں کے پڑھانے کے ليے معلم کو نوکر رکھا اور یہ نہیں بیان کیا کہ کتنے بچے پڑھیں گے یہ جائز ہے۔ (11)(عالمگیری)