مسئلہ ۴۲: درزی کواچکن (1)سینے کے لیے کپڑا دیااُس نے کرتہ سی دیا درزی سے اپنے کپڑے کی قیمت لے لے اور وہ سلاہوا کپڑااُسی کے پاس چھوڑ دے اور کپڑے والے کو یہ بھی اختیار ہے کہ کرتہ لے لے اور اُس کی واجبی سلائی دیدے مگریہ اُجرت مثل اگر اُس سے زیادہ ہے جو مقرر ہوئی تو وہی دے گا جو مقرر ہوئی یہی حکم اُس صورت میں ہے کہ کرتہ سینے کوکہا تھااُس نے پاجامہ سی دیا۔(2) (بحر)
مسئلہ ۴۳: درزی سے کہہ دیا کہ اتنالمبا اور اتنا چوڑا ہوگا اور اتنی آستین ہوگی مگر سی کرلایا تو اُس سے کم ہے جتنا بتایا اگرایک آد ھ ا ونگل کم ہے معاف ہے اور زیادہ کم ہے تو اُسے تاوان دینا پڑے گا۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۴۴: درزی سے کہا اس کپڑے میں میری قمیص ہوجائے تواسے قطع کرکے اتنے میں سی دو اُس نے کپڑا کاٹ دیا اب کہتا ہے کہ اس میں تمھاری قمیص نہیں ہوگی درزی کو تاوان دینا ہوگا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: درزی سے پوچھا اس کپڑے میں میری قمیص ہو جائے گی اُس نے کہا ہاں اس نے کہا اسے قطع کردو قطع کرنے کے بعد درزی کہتا ہے قمیص نہیں ہوگی اِس صورت میں درزی پر تاوان نہیں کہ مالک کی اجازت سے اس نے کاٹا اور اُس کی اجازت میں شرط بھی نہیں ہے کہ قمیص ہوسکے تب قطع کرو۔ اور اگر صورت مذکور ہ میں درزی کے ہاں کہنے کے بعد مالک نے یوں کہا ہوتاکہ تو کاٹ دو یاتو اب قطع کردوتو بیشک درزی کے ذمہ تاوان ہے کہ اس لفظ (تو) کے زیادہ کرنے سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ قطع کرنے کی اجازت اِس شرط سے ہے کہ قمیص ہو جائے۔ (5)(بحر، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۶: رنگریز(6)کو سُرخ رنگنے کے لیے کپڑا دیا اُس نے زرد رنگ دیا مالک کو اختیار ہے اُس سے سفید کپڑے کی قیمت لے یا وہی کپڑا لے لے اور رنگ کی وجہ سے جوکچھ زیادتی ہوئی ہے وہ دیدے اور اس صورت میں رنگنے کی اُجرت نہیں ملے گی اور اگر وہی رنگ رنگا جس کو اس نے کہا تھا مگر خراب کردیا اگر زیادہ خرابی نہیں ہے تو ضمان واجب نہیں اور بہت زیادہ خراب