| بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14) |
الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ! صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی کے تاریخ ساز کارنامے اور فقہ حنفی کے عظیم علمی خزانے''بہار شریعت''کی تخریجِ جمیل وتسہیلِ قلیل اور حواشی کا آغاز ۱۴۲۵ھ میں دعوتِ اسلامی کی علمی وتحقیقی مجلس المدینۃ العلمیۃ کے علمائے کرام نے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطاؔر قادری مدظلہ العالی کی خواہش پرکیا تھا ۔ یہ کام عظیم ترین ہونے کے ساتھ ساتھ مشکل ترین بھی تھا مگر ''مُشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں ''کے مصداق بہارِ شریعت کے مکمل 20 حصے 3جلدوں کی صورت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے تقریباً 7سال میں بحسن وخُوبی مکمل ہوئے۔1360صفحات پر مشتمل جلداول اور1304صفحات پر مشتمل جلد دوم زیورِ طبع سے آراستہ ہوکراہلِ محبت کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان کرچکی ہیں۔پاک وہند کے بہت سے مفتیانِ عظام وعلمائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السّلام نے حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ بعض نے توتحریری تأثرات سے بھی نوازا جن میں سے کچھ جلداول اور جلد دوم کے پیش لفظ میں شائع بھی ہوچکے ہیں ، مزید تأثرات کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے،چنانچِہ
(1)تلمیذشارحِ بخاری ،اُستاذالعلماء ،شیخ الحدیث حضرت مولانااِفتخار احمد قادری مصباحی دامت برکاتہم العالیہ(شیخ الحدیث دارالعلوم قادریہ غریب نواز،لیڈی اسمتھ ساؤتھ افریقہ)لکھتے ہیں:عظیم عالمی تحریک دعوتِ اسلامی کے لیے یہ بڑا شرف ہے کہ ذمہ دارانہ تصحیح کے بعد اس نے اس(یعنی بہارِ شریعت)کی اشاعت کا حق ادا کیا۔میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ بہارِ شریعت کے اب تک جتنے ایڈیشن طبع ہوئے ہیں ان میں سب سے عمدہ ، وقیع اور ممتاز دعوتِ اسلامی کا شائع کردہ یہ ایڈیشن ہے۔رب تعالیٰ دعوتِ اسلامی کو مزید فروغ و استحکام عطا فرمائے اور اس کی خدمات کو عام سے عام تر فرمائے ، اِس کے بانی وامیر(یعنی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی)اور دیگر ارکان اور دُعاۃ و مبلغین کو مزید جہاد کی توفیق ارزانی فرمائے اور ان کی مساعی و جہود کو مقبول فرمائے اور سعادتِ دارین سے بہراو ر فرمائے ۔ (2)شہیدِ اہلسنّت حضرتِ علامہ ابوطفیل عبدالعظیم خان قادری قدس سرہ(جامعہ جُنیدیہ غفوریہ پشاور خیبر پختون خواہ)لکھتے ہیں:بلامبالغہ وتردد مجھے بہارِ شریعت کے نسخوں کی ورق گردانی سے دلی سکون اور اطمینان حاصل ہوگیا ، اراکینِ دعوتِ اسلامی بڑے ہی مخلص اور دیانتدار ہیں ، مجلسِ المدینۃ العلمیۃ کا قیام ایک نہایت ہی مفید اقدام ہے جس سے علماء کرام کو بھی احسن طریقے سے اپنے ساتھ لے کر چلنا سہل ہوجائے گا ۔ (3)یادگارِ اسلاف مفتی فتح محمد باروزئی دامت برکاتہم العالیہ(مہتمم مدرسہ جامعہ فیض العلوم نقشبندیہ سبی ،بلوچستان)لکھتے ہیں:بہار شریعت کا حاشیہ انتہائی نفع بخش اور مفید ہے ، بہر حال سب کچھ امیر دعوت اسلامی(حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطا ر قادری)مدظلہ العالی کے مسلک حقہ اہل سنت سے صادق وابستگی اور دین متین کی ترقی کے جذبے کی بناء پر کیا جارہا ہے ۔ (4)استاذ العلماء حضرتِ مولانا ابوالبیان محمد صابر امجدی دامت برکاتہم العالیہ(مدرس دارالعلوم امجدیہ عالمگیرروڈباب المدینہ کراچی)لکھتے ہیں:میں نے چیدہ چیدہ مقامات سے (بہار شریعت کا)ضرور مطالعہ کیا، ماشاء اللہ بہت خوب پایا ۔ (5)تلمیذِ محدث اعظم پاکستان حضرتِ مولانامحمد رفیق قادری دامت برکاتہم العالیہ(خطیب مرکزی جامع مسجد عالمگیری مٹھیاں،کھاریاں ،ضلع گجرات) لکھتے ہیں:''مجلس المدینۃ العلمیہ''کا بہارِ شریعت کی تخریج و تسہیل ، جدالممتار علٰی ردالمحتار کی ازسر نو تدوین، تخریج، تحقیق وغیرہ کا کام قابلِ صد تحسین ہے۔ دعوتِ اسلامی نے بہت قلیل عرصے میں اتناعظیم کام کر دکھایا ہے ۔ یہ سب مجلس المدینۃ العلمیہ کے خلوص، انتھک محنت، دین سے لگن اور اتفاق و اتحاد کا نتیجہ اور امیرِ اہلسنّت حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کا فیض ہے۔ (6)استاذ العلماء حضرتِ مولانامفتی محمد ولایت اقبال نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ (مہتمم جامعہ حنفیہ ،خطیب مرکزی جامع مسجدمدینہ ساہیوال،پنجاب)لکھتے ہیں:از حد خوشی ہوئی ہے کہ ہماری عالمگیر مذہبی تحریک دعوتِ اسلامی نے تبلیغ کے محاذ کے علاوہ تحقیقی و تدقیق ، تخریج و استنباط کا کام بھی بڑے منظم و مربوط انداز میں شروع کررکھا ہے۔ (7)مفتی محمد وزیرالقادری دامت برکاتہم العالیہ (مہتمم اعلی