سے یہ کام کررہا ہے مگر اس میں بھی رواج و متعارف(1)کی قید ہے ۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: اسکو قرض دینے کا اختیار نہیں ہے ہاں اگر شریک نے صاف لفظوں میں اسے قرض دینے کی اجازت دے دی ہو توقرض دے سکتا ہے اور بغیر اجازت اس نے قرض دیدیا تو نصف قرض کا شریک کے لیے تاوان دینا پڑے گا مگر شرکت بدستور باقی رہے گی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: ایک شریک بغیر دوسرے کی اجازت کے تجارتی کا موں میں وکیل کرسکتا ہے اور تجارتی چیزوں پرصرف کرنے کے لیے مال شرکت سے وکیل کو کچھ دے بھی سکتا ہے پھر اگر یہ وکیل خریدو فروخت و اجارہ کے لیے اس نے کیا ہے تو دوسرا شریک اسے وکالت سے نکال سکتا ہے اوراگر محض تقاضے کے لیے وکیل کیا ہے تو دوسرے شریک کو اسکے نکالنے کااختیار نہیں۔(4) (بدائع، عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: مالِ شرکت کسی پر دَین ہے اور ایک شریک نے معاف کردیا تو صرف اسکے حصہ کی قدر معاف ہوگا دوسرے شریک کا حصہ معاف نہ ہوگا اور اگر دین کی میعاد (5) پوری ہو چکی ہے اور ایک نے میعا د میں اضافہ کر دیا تو دونوں کے حق میں اضافہ ہوگیا اور اگر ان شریکوں پر میعاد ی دین ہے جسکی میعاد ابھی پوری نہیں ہوئی ہے اور ایک شریک نے میعاد ساقط کردی تو دونوں سے ساقط ہو جائے گی۔ (6) (عالمگیری)