Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دَہم (10)
497 - 607
ہوسکتی ہے۔(1) (درمختار) 

    مسئلہ ۲۸: اگر دونوں کے پاس روپے اشرفی نہ ہوں صرف سامان ہو اور شرکت مفاوضہ یا شرکت عنان کرنا چاہتے ہوں تو ہر ایک اپنے سامان کے ایک حصہ کو دوسرے کے سامان کے ایک حصہ کے مقابل یا روپے کے بدلے بیچ ڈالے اسکے بعد اِس بیچے ہوئے سامان میں عقد شرکت کرلیں۔ (2) (درمختار) 

    مسئلہ ۲۹: اگر دونوں میں ایک کا مال غائب ہو (یعنی نہ وقت عقد اُس نے مال حاضر کیا اور نہ خریدنے کے وقت اُس نے اپنا مال دیا اگرچہ وہ مال جس پر شرکت ہوئی اُسکے مکان میں موجود ہو) تو شرکت صحیح نہیں۔ یوہیں اگر اُس مال سے شرکت کی جو اُسکے قبضے میں بھی نہیں بلکہ دوسرے پر دین ہے جب بھی شرکت صحیح نہیں۔(3) (درمختار) 

    مسئلہ ۳۰: جس قسم کا مال شرکت مفاوضہ میں اسکے پاس موجود ہے اُس جنس سے جوچیز چاہے خریدے یہ خریدی ہوئی چیز شرکت کی قرار پائیگی اگرچہ جتنا مال موجود ہے اُس سے زیادہ کی خریدے اور اگر دوسری جنس سے خریدی تو یہ چیز شرکت کی نہ ہوگی بلکہ خاص خریدنے والے کی ہوگی مثلاً اسکے پاس روپیہ ہے تو روپیہ سے خریدنے میں شرکت کی ہوگی اور اشرفی سے خریدے تو خاص اسکی ہے، یوہیں اسکا عکس۔(4) (عالمگیری)
(ہرایک شریک کے اختیارات)
    مسئلہ ۳۱: ان میں سے ہر ایک کو یہ جائز ہے کہ شرکت کے مال میں سے کسی کی دعوت کرے یا کسی کے پاس ہدیہ و تحفہ بھیجے مگر اتنا ہی جسکا تاجروں میں رواج ہوتا جر اُسے اسراف(5) نہ سمجھتے ہوں، لہٰذا میوہ، گوشت روٹی وغیرہ اسی قسم کی چیزیں تحفہ میں بھیج سکتا ہے روپیہ اشرفی ہدیہ نہیں کرسکتا نہ کپڑا دے سکتا ہے نہ غلّہ اور متاع دے سکتا ہے۔ یوہیں اسکے یہاں دعوت کھانا یا اسکا ہدیہ قبول کرنا یا اس سے عاریت لینا(6) بھی جائز ہے اگرچہ معلوم ہو کہ بغیر اجازت شریک مال شرکت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۷۵. 

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۴۷۶. 

3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۴۷۷. 

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الخامس،ج۲،ص۳۱۱.

5۔۔۔۔۔۔فضول خرچ۔        6۔۔۔۔۔۔عارضی طورپر کوئی چیز لینا۔
Flag Counter