ہوسکتی ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: اگر دونوں کے پاس روپے اشرفی نہ ہوں صرف سامان ہو اور شرکت مفاوضہ یا شرکت عنان کرنا چاہتے ہوں تو ہر ایک اپنے سامان کے ایک حصہ کو دوسرے کے سامان کے ایک حصہ کے مقابل یا روپے کے بدلے بیچ ڈالے اسکے بعد اِس بیچے ہوئے سامان میں عقد شرکت کرلیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: اگر دونوں میں ایک کا مال غائب ہو (یعنی نہ وقت عقد اُس نے مال حاضر کیا اور نہ خریدنے کے وقت اُس نے اپنا مال دیا اگرچہ وہ مال جس پر شرکت ہوئی اُسکے مکان میں موجود ہو) تو شرکت صحیح نہیں۔ یوہیں اگر اُس مال سے شرکت کی جو اُسکے قبضے میں بھی نہیں بلکہ دوسرے پر دین ہے جب بھی شرکت صحیح نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: جس قسم کا مال شرکت مفاوضہ میں اسکے پاس موجود ہے اُس جنس سے جوچیز چاہے خریدے یہ خریدی ہوئی چیز شرکت کی قرار پائیگی اگرچہ جتنا مال موجود ہے اُس سے زیادہ کی خریدے اور اگر دوسری جنس سے خریدی تو یہ چیز شرکت کی نہ ہوگی بلکہ خاص خریدنے والے کی ہوگی مثلاً اسکے پاس روپیہ ہے تو روپیہ سے خریدنے میں شرکت کی ہوگی اور اشرفی سے خریدے تو خاص اسکی ہے، یوہیں اسکا عکس۔(4) (عالمگیری)