| بہارِشریعت حصّہ دَہم (10) |
ہوسکتی مثلاًدونوں نے شرکت کے ساتھ جنگل کی لکڑیاں کاٹیں کہ جتنی جمع ہونگی دونوں میں مشترک ہونگی یہ شرکت صحیح نہیں ہر ایک اُسی کا مالک ہو گا جو اُس نے کاٹی ہے اور یہ بھی ضرور ہے کہ ایسی شرط نہ کی ہو جس سے شرکت ہی جاتی رہے مثلاًیہ کہ نفع دس روپیہ میں لوں گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کُل دس ہی روپے نفع کے ہوں تو اب شرکت کس چیز میں ہوگی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: نفع میں کم و بیش کے ساتھ بھی شرکت ہوسکتی ہے مثلاًایک کی ایک تہائی اور دوسرے کی دو تہائیاں اور نقصان جو کچھ ہوگا وہ ر اس المال کے حساب سے ہوگا اسکے خلاف شرط کرنا باطل ہے مثلاًدونوں کے روپے برابر برابر ہیں اور شرط یہ کی کہ جو کچھ نقصان ہوگا اُسکی تہائی فلاں کے ذمہ اور دوتہائیاں فلاں کے ذمہ یہ شرط باطل ہے اور اس صورت میں دونوں کے ذمہ نقصان برابر ہوگا۔(2) (ردالمحتار)(شرکتِ عقد کے اقسام اور شرکتِ مفاوضہ کی تعریف و شرائط)
مسئلہ ۷: شرکت عقد کی چند قسمیں ہیں:1 شرکت بالمال۔ 2 شرکت بالعمل۔3 شرکت وجوہ۔
پھر ہر ایک دوقسم ہے۔ 1مفاوضہ۔ 2 عنان۔
یہ کُل چھ قسمیں ہیں شرکت مفاوضہ یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کا وکیل و کفیل ہو یعنی ہر ایک کا مطالبہ دوسرا وصول کرسکتا ہے اور ہر ایک پر جو مطالبہ ہوگا دوسرا اُسکی طرف سے ضامن ہے اور شرکتِ مفاوضہ میں یہ ضرور ہے کہ دونوں کے مال برابر ہوں اورنفع میں دونوں برابر کے شریک ہوں اور تصرف و دِین(3) میں بھی مساوات ہو، لہٰذا آزادو غلام میں اور نابالغ وبالغ میں اور مسلمان و کافر میں اور عاقل و مجنون میں اور دو نابالغوں میں اور دو غلاموں میں شرکت مفاوضہ نہیں ہوسکتی۔ (4)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۸: شرکت مفاوضہ کی صورت یہ ہے کہ دوشخص باہم یہ کہیں کہ ہم نے شرکت مفاوضہ کی اور ہم کو اختیار ہے کہ یکجائی خریدو فروخت کریں یا علیٰحدہ علیٰحدہ، نقد بیچیں خریدیں یا اُدھار اور ہر ایک اپنی رائے سے عمل کریگا اور جو کچھـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔جس پردعوی کیاجائے۔ 2۔۔۔۔۔۔ قسم لے سکتاہے ۔ 3۔۔۔۔۔۔یعنی انکارکرتاہے۔ 4۔۔۔۔۔۔یعنی عقد نہ کرنے کی۔ 5۔۔۔۔۔۔ معلوم نہ ہونے۔ 6۔۔۔۔۔۔دعویٰ کرنے والا۔ 7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الثالث،ج۲،ص۳۱۰. و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فیما یقع کثیرًا فی الفلاحین...إلخ،ج۶،ص ۴۷۳،۴۷۴. 8۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الثالث،ج۲،ص۳۱۰.