| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
عقیدہ (۳۶): حضور، خاتم النبییّن ہیں(1)، یعنی اﷲ عزوجل نے سلسلہ نبوّت حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ختم کر دیا ، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زمانہ میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا (2)، جو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زمانہ میں یا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بعد کسی کو نبوّت ملنا مانے یا جاءز جانے، کافر ہے۔ (3)
عقیدہ (۳۷): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) افضل جمیع مخلوقِ الٰہی ہیں(4)، کہ اوروں کو فرداً فرداًجو کمالات عطا ہوئے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں وہ سب جمع کر دیے گئے(5)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ (مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ). پ۲۲، الأحزاب:۴۰.
((وأنا خاتم النبیین)) ''صحیح البخاري''، کتاب المناقب، باب خاتم النبیینصلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۳۵۳۵، ج۲، ص۴۸۵.
2۔۔۔۔۔۔ ((وأنا خاتم النبیین لا نبي بعدي)). ''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ... إلخ، الحدیث: ۲۲۲۶، ج۴، ص۹۳.
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((إنّ الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبي)).سنن الترمذي''، کتاب الرؤیا، باب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات، ج۴، ص۱۲۱، الحدیث:۲۲۷۹.
3۔۔۔۔۔۔ في ''المعتقد المنتقد''، تکمیل الباب، ص۱۱۹۔۱۲۰: (ومنھا: أن یؤمن بأن اللہ ختم بہ النبیین وختم اللہ حکمہ بما لا یخلف منہ،۔۔۔۔۔۔ وہذہ المسألۃ لا ینکرہا إلاّ من لا یعتقد نبوتہ؛ لأنّہ إن کان مصدقا بنبوتہ اعتقدہ صادقا في کل ما أخبر بہ، إذ الحجج التي ثبت بہا بطریق التواتر نبوتہ ثبت بہا أیضا أنّہ آخر الأنبیاء في زمانہ وبعدہ إلی القیامۃ لا یکون نبي، فمن شک فیہ یکون شاکا فیہا أیضا، وأیضا من یقول: إنّہ کان نبي بعدہ، أو یکون، أو موجود وکذا من قال: یمکن أن یکون، فھو کافر).
اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ''محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا، ان کے زمانہ میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا قطعاً محال وباطل جاننا فرضِ اجل وجزءِ ایقان ہے (وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ)، نص قطعی قرآن ہے اس کا منکر، نہ منکر بلکہ شک کرنے والا، نہ شاک کہ ادنی ضعیف احتمال خفیف سے تو ہّم خلاف رکھنے والا قطعاً اِجماعاً کافر ملعون مخلد فی النیران ہے، نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے اس عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی،کافر ہونے میں شک و تردّدکو راہ دے وہ بھی کافر ہیں الکفر جلی الکفران ہے. ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص، ۵۷۸. وانظر رسالۃ إمام أھل السنۃ علیہ الرحمۃ: ''المبین ختم النبیین''، ج۱۴، ص۳۳۱، والرسالۃ: ''جزاء اللہ عدوہ بإبائہ ختم النبوۃ''، ج۱۵، ص۶۲۹۔
4۔۔۔۔۔۔ انظر العقیدۃ (۲۹)، ص ۵۲۔۵۴.
5۔۔۔۔۔۔ ( اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ) پ۷، الأنعام: ۹۰.
في ''تفسیر الخازن''، ج۲، ص۳۴، تحت الآیۃ: (احتج العلماء بہذہ الآیۃ علی أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أفضل من جمیع الأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام، بیانہ أنّ جمیع خصال الکمال وصفات الشرف کانت متفرقۃ فیہم فکان نوح صاحب