| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
اُنھوں نے ساڑھے نو سو برس ہدایت فرمائی(1) ، اُن کے زمانہ کے کفّار بہت سخت تھے، ہر قسم کی تکلیفیں پہنچاتے، استہزا کرتے، اتنے عرصہ میں گنتی کے لوگ مسلمان ہوئے، باقیوں کو جب ملاحظہ فرمایا کہ ہرگز اصلاح پذیر نہیں، ہٹ دھرمی اور کُفر سے باز نہ آئیں گے، مجبور ہو کر اپنے رب کے حضور اُن کے ھلاک کی دُعا کی، طوفان آیا اور ساری زمین ڈوب گئی، صرف وہ گنتی کے مسلمان اور ہر جانور کا ایک ایک جوڑا جو کشتی میں لے لیا گیا تھا، بچ گئے۔(2)
عقیدہ (۲۸): انبیا کی کوئی تعداد معیّن کرنا جاءز نہیں، کہ خبریں اِس باب میں مختلف ہیں اور تعداد معیّن پر ایمان رکھنے میں نبی کو نبوّت سے خارج ماننے، یا غیرِ نبی کو نبی جاننے کا احتمال ہے(3) اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں، لہٰذا یہ اعتقاد چاہیے کہ اﷲ (عزوجل) کے ہر نبی پر ھمارا ایمان ہے۔
عقیدہ (۲۹): نبیوں کے مختلف درجے ہیں، بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور سب میں افضل ھمارے آقا و مولیٰ سیّدالمرسلین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں(4)، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بعد سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کا ہے، ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وفي ''النبراس''، ص۲۷۵: (إن قلت: جاء في الحدیث أنّ نوحاً علیہ السلام أوّل رسول بعثہ اللہ کما في ''صحیح مسلم''، أجیب أي: بعثہ اللہ إلی الکفار بخلاف آدم وشیث فإنّھما أرسلا إلی المؤمنین لتعلیم الشرائع).
1۔۔۔۔۔۔ (وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوْحًا إِلٰی قَوْمِہٖ فَلَبِثَ فِیْہِمْ أَلْفَ سَنَۃٍ إِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا) پ۲۰، العنکبوت: ۱۴.
2۔۔۔۔۔۔ انظر التفصیل في القرآن: پ۸، الأعراف: ۵۹۔۷۲. پ۱۱، یونس:۷۱۔۷۳.
پ۱۲، ہود: ۲۵۔۴۷. پ۱۸، المؤمنون: ۲۳۔۳۰. پ۱۹، الشعراء: ۱۰۵۔۱۲۲.
پ۲۰، العنکبوت: ۱۴۔۱۵. پ۲۹، نوح: ۱۔۲۸.
3۔۔۔۔۔۔ في ''المسامرۃ بشرح المسایرۃ''، ص۲۲۵: (أمّا المبعوثون، فالإیمان بہم واجب، من ثبت شرعاً تعیینہ منھم وجب الإیمان بعینہ، ومن لم یثبت تعیینہ کفی الإیمان بہ إجمالاً (ولا ینبغي في الإیمان بالأنبیاء القطع بحصرہم في عدد) إذ لم یرد بحصرہم دلیل قطعي (لأنّ) الحدیث (الوارد في ذلک) أي في عددہم (خبر واحد) لم یقترن بما یفید القطع (فإن وجدت فیہ الشروط) المعتبرۃ للحکم بصحتہ (وجب ظن مقتضاہ، مع تجویزنقیضہ) بَدَلَہ (وإلا) أي: وإن لم یصح (فلا) یجب ظن مقتضاہ، وعلی کل من التقدیرین (فیؤدي) أي: فقد یؤدي حصرہم في العدد الذي لا قطع بہ (إلی أن یعتبر فیہم من لیس منھم) بتقدیر کون عددہم في نفس الأمر أقل من الوارد (أو یخرج) عنھم (من ہو منھم) بتقدیر أن یکون عددہم في نفس الأمر أزید من الوارد).
وفي ''منح الروض الأزہر''، ص۱۲. وفي ''شرح المقاصد''، فصل في النبوۃ، ج۳، ص۳۱۷.
و''شرح العقائد النسفیۃ''، ص۱۳۹۔۱۴۰.
4۔۔۔۔۔۔ (وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّیْنَ عَلٰی بَعْضٍ) پ۱۵، الإسراء: ۵۵.