نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم سے زائد بتایا یا نہیں؟ ضرور زائد بتایا! اور شیطان کو خدا کا شریک مانا یا نہیں؟ ضرور مانا! اور پھر اس شرک کو نص سے ثابت کیا۔ یہ تینوں امر صریح کفر اور قائل یقینی کافر ہے۔ کون مسلمان اس کے کافر ہونے میں شک کریگا...؟!
''حفظ الایمان'' صفحہ ۷ میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے علم کی نسبت یہ تقریر کی:
''آپ کی ذاتِ مقدّسہ پر علمِ غیب کا حکم کیا جانا، اگر بقولِ زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کُل غیب؟ اگر بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں تو اِس میں حضور کی کیا تخصیص ہے؟ ایسا علمِ غیب تو زید وعَمرو، بلکہ ہر صبی ومجنون، بلکہ جمیع حیوانات و بَہائم کے لیے بھی حاصل ہے۔'' (1)
مسلمانو! غور کرو کہ اِس شخص نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں کیسی صریح گستاخی کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) جیسا علم زید و عَمرو تو زید و عَمرو، ہر بچے اور پاگل، بلکہ تمام جانوروں اور چوپایوں کے لیے حاصل ہونا کہا۔ کیا ایمانی قلب ایسے شخص کے کافر ہونے میں شک کرسکتے ہیں...؟ ہر گز نہیں! اس قوم کا یہ عام طریقہ ہے کہ جس چیز کو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے منع نہیں کیا، بلکہ قرآن و حدیث سے اس کا جواز ثابت، اُس کو ممنوع کہنا تو درکنار، اُس پر شرک و بدعت کا حکم لگا دیتے ہیں، مثلاً مجلسِ میلاد شریف اور قیام و ایصالِ ثواب و زیارتِ قبور و حاضریئ بارگاہِ بیکس پناہ سرکارِ مدینہ طیبہ، و عُرسِ بزرگانِ دین و فاتحہ سوم و چھلم، و استمداد باَرواحِ انبیا و اولیا اور مصیبت کے وقت انبیا و اولیا کو پکارنا وغیرہا، بلکہ میلاد شریف کی نسبت تو ''براہینِ قاطعہ'' صفحہ ۴۸ ۱ میں یہ ناپاک لفظ لکھے:
''پس یہ ہر روز اِعادہ ولادت کا تو مثلِ ہنود کے، کہ سانگ کَنہیا(2) کی ولادت کا ہر سال کرتے ہیں، یا مثلِ