Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
190 - 278
(۱) قادیانی: کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں، اس شخص نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بیباکی کے ساتھ گستاخیاں کیں، خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اﷲ وکلمۃاﷲ علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ طیِّبہ طاہرہ صدیقہ مریم کی شانِ جلیل میں تو وہ بیہودہ کلمات استعمال کیے، جن کے ذکر سے مسلمانوں کے دل ہِل جاتے ہیں، مگر ضرورتِ زمانہ مجبور کر رہی ہے کہ لوگوں کے سامنے اُن میں کے چندبطور نمونہ ذکر کیے جائیں، خود مدّعی نبوت بننا کافر ہونے اور ابد الآباد جہنم میں رہنے کے لیے کافی تھا، کہ قرآنِ مجید کا انکار اور حضور خاتم النبیین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ ماننا ہے، مگر اُس نے اتنی ہی بات پر اکتفا نہ کیا بلکہ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی تکذیب و توہین کا وبال بھی اپنے سَر لیا اور یہ صدہا کفر کا مجموعہ ہے، کہ ہر نبی کی تکذیب مستقلاً کفر ہے، اگرچہ باقی انبیا و دیگر ضروریات کا قائل بنتا ہو، بلکہ کسی ایک نبی کی تکذیب سب کی تکذیب ہے (1)،

چنانچہ آیہ :
(کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوۡحِۣ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾ )ـ2ـ
    وغیرہ اس کی شاہد ہیں اور اُس نے تو صدہا کی تکذیب کی اور اپنے کو نبی سے بہتر بتایا۔ ایسے شخص اور اس کے متّبِعین کے کافر ہونے میں مسلمانوں کو ہرگز شک نہیں ہوسکتا، بلکہ ایسے کی تکفیر میں اس کے اقوال پر مطلع ہو کر جو شک کرے خود کافر۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''تفسیر النسفي''، پ۱۹، الشعرآء ص۸۲۵، تحت الآیۃ: ((کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِیْنَ)۔۔۔۔۔۔ کانوا ینکرون بعث الرسل أصلاً، فلذا جمع أولأنّ من کذ ب واحداً منھم فقدکذب الکل؛ لأنّ کل رسول یدعو الناس إلی الإیمان بجمیع الرسل). 

    وفي ''تفسیر البیضاوي''، ج۲، ص۲۷۳۔۲۷۴، تحت الآیۃ: ((إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیدُوْنَ أَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللہ وَرُسُلِہٖ) بأن یؤمنوا باللہ ویکفروا برسلہ (وَیقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ) نؤمن ببعض الأنبیاء ونکفر ببعضھم (وَیُرِیدُوْنَ أَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً ) طریقاً وسطاً بین الإِیمان والکفر لا واسطۃ، إذ الحق لا یختلف فإنّ الإِیمان باللہ سبحانہ وتعالی لا یتم إلا بالإِیمان برسلہ وتصدیقہم فیما بلغوا عنہ تفصیلاً أو إجمالاً، فالکافر ببعض ذلک کالکافر بالکل فی الضلال کما قال اللہ تعالی: ( فَمَاذَا بَعْدَ الحَقِّ إِلاَّ الضَّلَالُ)۔ و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۶۲۶.

2۔۔۔۔۔۔ پ۱۹، الشعرآء ۱۰۵. 

3۔۔۔۔۔۔ في'' الد رالمختار'' ، کتاب الجھاد ، باب المرتد ، ج۶، ص۳۵۶ ۔ ۳۵۷ : ( ومن شک في عذ ابہ وکفرہ کفر). 

    وانظر للتفصیل رسائل إمام أھل السنۃ رحمہ اللّٰٰہ تعالی: ''السوء والعقاب علی المسیح الکذّاب''، ج۱۵، ص۵۷۱۔

    و''قہر الدیان علی مرتد بقادیان''، ج۱۵، ص۵۹۵،     و''الجراز الدیاني علی المرتد القادیاني''، ج۱۵۔
Flag Counter