Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
130 - 278
    عقیدہ (۲): حشر صرف رُوح کا نہیں، بلکہ روح و جسم دونوں کا ہے، جو کہے صرف روحیں اٹھیں گی جسم زندہ نہ ہوں گے، وہ بھی کافر ہے۔ (1) 

    عقیدہ (۳): دنیا میں جو رُوح جس جسم کے ساتھ متعلق تھی اُس رُوح کا حشر اُسی جسم میں ہوگا، یہ نہیں کہ کوئی نیا جسم پیدا کرکے اس کے ساتھ روح متعلق کر دی جائے۔ (2) 

    عقیدہ (۴): جسم کے اجزا اگرچہ مرنے کے بعد متفرق ہوگئے اور مختلف جانوروں کی غذا ہوگئے ہوں، مگر اﷲ تعالیٰ ان سب اجزا کو جمع فرماکر قیامت کے دن اٹھائے گا (3)، قیامت کے دن لوگ اپنی اپنی قبروں سے ننگے بدن، ننگے پاؤں، نَاخَتْنہَ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ في ''المعتقد المنتقد''، ھل الروح أیضاً جسم فلا حشر إلاّ جسماني؟، ص۱۸۱: (أکثر المتکلمین علی أنّ الحشر جسمانی فقط علی أنّ الروح جسم لطیف. والغزالي والماتریدي والراغب والحلیمي علی أنّہ جسماني وروحاني، بناء علی أنّ الروح جوھر مجرد لیس بجسم ولا قوۃ حالۃ في جسم، بل یتعلق بہ تعلق التدبیر والتصرف).

    قال الإمام أحمد رضا في ''المعتمد المستند''، تحت قولہ: ''جسماني فقط'': (لا بمعنی إنکار حشر الروح، فإنّہ کفر قطعاً کإنکار حشر الأجساد؛ لأنّ الکل ثابت ضرورۃ من الدین، بل بناء علی أنّ الروح أیضاً عندھم جسم لطیف فحشر الجسد والروح کل ذلک لیس عند ھم إلاّ حشر جسم). ۱۲

2۔۔۔۔۔۔ ( قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْہُمْ وَعِنْدَنَا کِتَابٌ حَفِیْظٌ) پ۲۶، ق: ۴.

    في ''تفسیر روح البیان''، ج۹، ص۱۰۴، تحت ہذہ الآیۃ: (قال ابن عطیۃ وحفظ ما تنقص الأرض إنّما ہو لیعود بعینہ یوم القیامۃ وھذا ہو الحق وذہب بعض الأصولیین إلی أنّ الأجساد المبعوثۃ یجوز أن تکون غیر ہذہ، قال ابن عطیۃ: وھذا عندي خلاف لظاہر کتاب اللہ، ولو کانت غیرہا فکیف کانت تشہد الجلود والأیدي والأرجل علی الکفرۃ إلی غیر ذلک مما یقتضي أنّ أجساد الدنیا ہي التي تعود، وسئل شیخ الإسلام ابن حجر: ھل الأجساد إذا بلیت وفنیت وأراد اللہ تعالی إعادتہا کما کانت أو لا ھل تعود الأجسام الأول أم یخلق اللہ للناس أجساداً غیر الأجساد الأول؟، فأجاب أنّ الأجساد التي یعیدہا اللہ ہي الأجساد الأول لا غیرہا، قال: وھذا ہو الصحیح بل الصواب، ومن قال غیرہ عندي فقد أخطأ فیہ لمخالفتہ ظاہر القرآن والحدیث، قال أھل الکلام: إنّ اللہ تعالی یجمع الأجزآء الأصلیۃ التي صار الإنسان معہا حال التولد، وہي العناصر الأربعۃ ویعید روحہ إلیہ سوآء سمی ذلک الجمع اعادۃ المعدوم بعینہ أو لم یسم).

3۔۔۔۔۔۔ حدثنا إبراہیم بن الحکم بن أبان، حدثنا أبي، قال: کنت جالساً مع عکرمۃ عند منزل ابن داود ۔ وکان عکرمۃ نازلاً مع ابن داود نحوالساحل۔ فذکروا الذین یغرقون في البحر، فقال عکرمۃ: الحمد للہ، إنّ الذین یغرقون في البحر تتقسم لحومہم الحیتان فلا یبقی منھم شيء إلاّ العظام تلوح، فتقلبہا الأمواج حتی تلقیہا إلی البر، فتمکث العظام حینا حتی تسیرحائلا نخرۃ، فتمر بہا الإبل فتأکلہا ثم تسیر الإبل فتبعر ثم یجيء بعدہم قوم ینزلون منزلاً فیأخذون ذلک البعر فیوقدون ثم تخمد تلک النار
Flag Counter