| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
سے یوں برآمد ہونگے کہ دَہنے ہاتھ میں صدیقِ اکبر کا ہاتھ، بائیں ہاتھ میں فاروقِ اعظم کا ہاتھ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما (1)، پھر مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ کے مقابر میں جتنے مسلمان دفن ہیں، سب کو اپنے ہمراہ لے کر میدانِ حشر میں تشریف لے جائیں گے۔ (2)
عقیدہ (۱): قیامت بیشک قائم ہو گی، اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ (3)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تعالی إسرافیل بعد النفخۃ الأولی بأربعین وکذلک ھو في التوراۃ بین النفختین أربعون، لا یدری ما ھو، فإذا انقضت الأربعون نظر اللہ إلی أھل السموات وإلی أھل الأرضین، فیقول: وعزتي لأعیدنّکم کما بدأتکم ولأحیینّکم کما أمتکم، ثم یأمر إسرافیل فینفخ النفخۃ الثانیۃ، وقد جمعت الأرواح کلھا في الصور، فإذا نفخ خرج کل روح من کوۃ معلومۃ من کوی الصور، فإذا الأرواح تھوش بین السماء والأرض لھا دوي کدوی النحل، فینادي إسرافیل: یا أیتھا الجلود المتمزقۃ! ویا أیتھا الأعضاء المتھشمۃ! ویا أیتھا العظام البالیۃ! ویا أیتھا الأجساد المتفرقۃ! ویا أیتھا الأشعارالمتمرطۃ! قوموا إلی موقف الحساب والعرض الأکبر فیدخل کل روح في جسدہ قال: ویمطر اللہ طیشا من تحت العرش علی جمیع الموتی، فیحیون کما تحیی الأرض المیتۃ بوابل السمائ، فیبعث اللہ الأجساد التي کانت في الدنیا من حیث کانت بعضھا في بطون السباع، وبعضھامن حواصل الطیر وبنیان البحور وبطون الأرض وظھورھا، فیدخل کل روح في جسدہ، فإذا ھم قیام ینظرون، فیبعث اللہ نارا من المشارق، فتحشر الناس إلی المغارب إلی أرض تسمی الساہرۃ من وراء بیت المقدس أرض طاہرۃ لم یعمل علیہا سیئۃ ولا خطیئۃ فذلک قولہ: (فَاِنَّمَا ہِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمْ بِالسَّاہِرَۃِ)، وقولہ: (یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ)، (وَحَشَرْنَاہُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْہُمْ اَحَدًا)، (وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰہُمْ جَمْعًا وَّعَرَضْنَا جَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْکَافِرِیْنَ عَرْضًا اَلَّذِیْنَ کَانَتْ) الآیۃ).
''شعب الإیمان''، باب في حشر الناس۔۔۔ إلخ، فصل في صفۃ یوم القیامۃ، الحدیث: ۳۵۳، ج۱، ص۳۱۲۔۳۱۴.
1۔۔۔۔۔۔ عن ابن عمر: أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج ذات یوم فدخل المسجد وأبو بکر وعمر، أحدھما عن یمینہ والآخر عن شمالہ وھوآخذ بأیدیھما وقال: ((ھکذا نبعث یوم القیامۃ)). ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم لأبي بکر ثم عمر: ((ہکذا نبعث یوم القیامۃ))، الحدیث: ۳۶۸۹، ج۴، ص۳۷۸ .
2۔۔۔۔۔۔ عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنا أوّل من تنشق عنہ الأرض، ثم أبو بکر، ثم عمر، ثم أتي أھل البقیع فیحشرون معي ثم أنتظر أھل مکۃ حتی أحشر بین الحرمین)). ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب أنا أول من تنشق عنہ الأرض، ثم أبو بکر وعمر، الحدیث: ۳۷۱۲، ج۵، ص۳۸۸.
3۔۔۔۔۔۔ (وَاَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْہَا) پ ۱۷، الحج: ۷.
في ''الشفا''، فصل في بیان ما ہو من المقالات، ج۲، ص۲۹۰: (من أنکر الجنۃ أو النار أو البعث أو الحساب أو القیامۃ فھو کافر بإجماع للنص علیہ وإجماع الأمۃ علی صحۃ نقلہ متواتراً).
وفي ''منح الروض الأزہر'' للقاریئ، فصل في المرض والموت والقیامۃ، ص۱۹۵.