پھر دنیا میں فساد و قتل و غارت سے جب فرصت پائیں گے تو کہیں گے کہ زمین والوں کو تو قتل کرلیا، آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں، یہ کہہ کر اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے، خداکی قدرت کہ اُن کے تیر اوپر سے خون آلودہ گریں گے۔
یہ اپنی اِنہیں حرکتوں میں مشغول ہوں گے اور وہاں پہاڑ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع اپنے ساتھیوں کے محصور ہوں گے، یہاں تک کہ اُن کے نزدیک گائے کے سر کی وہ وقعت ہوگی جو آج تمہارے نزدیک ۱۰۰سو اشرفیوں کی نہیں، اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع اپنے ہمراہیوں کے دُعا فرمائیں گے، اﷲ تعالیٰ اُن کی گردنوں میں ایک قسم کے کیڑے پیدا کر دے گا کہ ایک دَم میں وہ سب کے سب مر جائیں گے، اُن کے مرنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہاڑ سے اُتریں گے، دیکھیں گے کہ تمام زمین اُن کی لاشوں اور بدبُو سے بھری پڑی ہے، ایک بالشت بھی زمین خالی نہیں۔
اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع ہمراہیوں کے پھر دُعا کریں گے، اﷲ تعالیٰ ایک قسم کے پرند بھیجے گا کہ وہ انکی لاشوں کو جہاں اﷲ (عزوجل) چاہے گا پھینک آئیں گے اور اُن کے تیر و کمان و تَرکش (1) کو مسلمان سا۷ت برس تک جلائیں گے، پھر اُس کے بعد بارش ہو گی کہ زمین کو ہموار کر چھوڑے گی اور زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھلوں کو اُگا اور اپنی برکتیں اُگل دے اور آسمان کو حکم ہوگا کہ اپنی برکتیں اُنڈیل دے تو یہ حالت ہو گی کہ ایک انار کو ایک جماعت کھائے گی اور اُس کے چھلکے کے سایہ میں د۱۰س آدمی بیٹھیں گے اوردودھ میں یہ برکت ہوگی کہ ایک اونٹنی کا دودھ، جماعت کو کافی ہوگا اور ایک گائے کا دودھ، قبیلہ بھر کو اور ایک بکری کا، خاندان بھر کو کفایت کریگا۔ (2)