| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
جب وہ ساری دنیا میں پھِر پھِرا کر ملکِ شام کو جائے گا، اُس وقت حضرت مسیح علیہ السلام (1) آسمان سے جامع مسجد دمشق کے شَرقی مینارہ پر نُزُول فرمائیں گے(2)، صبح کا وقت ہوگا، نمازِ فجر کے لیے اِقامت ہو چکی ہوگی، حضرت امام مَہدی کو کہ اُس جماعت میں موجود ہوں گے امامت کا حکم دیں گے، حضرت امام مَہدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نماز پڑھائیں گے، وہ لعین دجّال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سانس کی خوشبو سے پگھلنا شروع ہوگا، جیسے پانی میں نمک گھلتا ہے اور اُن کی سانس کی خوشبو حدّ ِ بصر (3) تک پہنچے گی، وہ بھاگے گا، یہ تعاقب فرمائیں گے اور اُس کی پیٹھ میں نیزہ ماریں گے، اُس سے وہ جہنم واصل ہوگا۔ (4)
(۲۲) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نُزُوْل فرمانا:
اِس کی مختصر کیفیت اوپر معلوم ہو چکی، آپ کے زمانہ میں مال کی کثرت ہوگی، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو مال دے گا تو وہ قبول نہ کریگا(5) ، نیز اُس زمانہ میں عداوت و بغض و حسد آپس میں بالکل نہ ہو گا۔ (6) عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلامــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔
2۔۔۔۔۔۔ ((إذ بعث اللہ المسیح ابن مریم، فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقي دمشق)). ''صحیح مسلم''، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، الحدیث: ۲۹۳۷، ص۱۵۶۹.
3۔۔۔۔۔۔ نظرکی انتہا۔
4۔۔۔۔۔۔ قالت أم شریک بنت أبي العکر: یا رسول اللہ فأین العرب یومئذ؟ قال: ((ہم یومئذ قلیل، وجلہم ببیت المقدس، وإمامہم رجل صالح، فبینما إمامہم قد تقدم یصلي بہم الصبح، إذ نزل علیہم عیسی ابن مریم علیہ السلام، فرجع ذلک الإمام ینکص، یمشي القہقری لیتقدم عیسی یصلي بالناس، فیضع عیسی علیہ السلام یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ: تقدم فصلّ، فإنّہا لک أقیمت فیصلي بہم إمامہم فإذا انصرف قال عیسی علیہ السلام: افتحوا الباب، فیفتح ووراء ہ الدجال معہ سبعون ألف یہودي کلہم ذو سیف محلی وساج فإذا نظر إلیہ الدجال ذاب کما یذوب الملح في المائ، وینطلق ہارباً ویقول عیسی علیہ السلام: إنّ لي فیک ضربۃ لن تسبقني بہا فیدرکہ عند باب اللد الشرقي فیقتلہ)).
''سنن ابن ماجہ''، أبواب الفتن، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسی... إلخ، الحدیث: ۴۰۷۷، ج۴، ص۴۰۶.
وفي روایۃ: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((ولا یجد ریح نفسہ یعني أحداً إلاّ مات، وریح نفسہ منتہی بصرہ، قال: فیطلبہ حتی یدرکہ بباب لد فیقتلہ)). ''سنن الترمذي''، کتاب الفتن، باب ما جاء في فتنۃ الدجال، الحدیث: ۲۲۴۰، ج۴، ص۱۰۴. في''منح الروض الأزہر''، ص۱۱۲.
5۔۔۔۔۔۔ ((ویفیض المال حتی لا یقبلہ أحد)). ''صحیح البخاري''، کتاب أحادیث الأنبیائ، باب نزول عیسی ابن مریم علیھما السلام، الحدیث: ۳۴۴۸، ج۲، ص ۴۵۹.
6۔۔۔۔۔۔ ((ولتذھبن الشحناء والتباغض والتحاسد ولیدعون إلی المال فلا یقبلہ أحد)). ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب نزول عیسی ابن مریم ...إلخ، الحدیث: ۲۴۳، ص ۹۲.